628

بعدازخدا توئی بزرگ قصہ مختصر

میراپیمبر عظیم تر ہے
یاصاحب الجمال ویاسید البشر من وجھک المنیر لقدنورالقمر
لایمکن الشاء کماکان حقہ بعدازخدابزرگ توئی قصہ مختصر
روح کائنات،حبیب خدا،رحمت للعالمین تاجدار مدینہ سرور قلب وسینہ حضرت محمدﷺ کی ذات والاصفات سے ہی لفظ محبت جچتاہے۔کیونکہ وہی تو ہیں جن کی ذات اقدس جمال میں بھی یکتا ہے اور کمال میں بے بھی مثل اور بے مثال۔ مظفروارثی کایہ کلام دیکھ کرذرا سردھنیے۔
کمال خلاق ذات اس کی جمال ہستی حیات اس کی
بشر نہیں، عظمت بشر ہے مراپیمبر عظیم ترہے
جسے شہ شش جہات دیکھوں اسے غریبوں کے ساتھ دیکھوں
کدال پر بھی وہ ہاتھ دیکھوں لگے وہ مزدور شہ ایسا
نہ زبر، نہ دہن سربراہ ایسا فلک نشیں کازمیں پہ گھر ہے
میراپیمبر عظیم ترہے
ام معبد نے حضور ﷺ کے شمائل کوان الفاظ میں بیان کیا۔”میں نے ایک شخص کودیکھا جس کی نظافت نمایاں، س کاچہرہ تاباں اور جس کی ساخت میں تناسب تھا۔ پاکیزہ اور پسندیدہ خو، نہ فربہی کاعیب نہ لاغری کانقص، نہ پیٹ نکلاہوا،نہ سرکے بال گرے ہوئے، چہرہ وجہیہ، جسم تنومنداورقدموزوں تھا۔ آنکھیں سرمگیں، فراخ اورسیاہ تھیں۔ پتلیاں کالی اور ڈھیلے بہت سفید تھے۔ پلکیں گھنی اور لمبی تھیں۔ ابرو ہلالی،باریک اور پیوستہ،گردن لمبی اور صراحی دار، داڑھی گھنی اور گنجان،سرکے بال سیاہ اور گھنگریالے،آوازمیں کھنک کے ساتھ لطافت، بات کریں تو رخ اور ہاتھ بلند فرمائیں۔ کلام شیریں اور اتنا واضح،نہ کم سخن اور نہ بسیارگو،گفتگو اس انداز کی جیسے پروئے ہوئے موتی۔ دور سے سنوتو بلندآہنگ،قریب سے سنوتودلفریب، کلام نہ طویل اور نہ بے مقصد بلکہ شیریں،جامع اور مختصر،خاموشی اختیارکرے تو پروقار اور تمکین نظرآئے۔ قدنہ درازی سے بدنمااور نہ اتناپستہ کہ نگاہ بلند تراٹھے۔لوگوں میں بیٹھے تو سب سے جاذب، دور سے دیکھیں تو بہت بارعب، دونرم ونازک شاخوں کے درمیان ایک شاخ تازہ جودیکھنے میں خوش منظر،چاندکے گردہالے کی طرح رفیق گردوپیش۔ جب کچھ کہے تو وہ سراپاگوش، حکم دے توتعمیل میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کاجی چاہے۔سب کامخدوم، سب کامطاع، مزاج میں اعتدال،تندی اور سختی سے دور۔“
تاریخ کے اوراق میں آقا سے ایک بدوی خاتون کے اظہار محبت کاانداز دیکھیں پھر اس کے ان الفاظ کی پذیرائی کہ عربی میں اس کابیان اپنی مثال آپ بن گیا۔
غارثور میں تین دن قیام کے بعد اللہ کے نیک بندے یثرب کی طرف روانہ ہوئے۔ایک سانڈنی پر آپ ﷺ، حضرت ابوبکر صدیقؓ،دوسری پر حضرت عامر اور عبداللہ بن اریقط،گوکہ وہ غیر مسلم تھا لیکن ایک انتہائی قابل اعتماد اور بھروسہ مندشخص جو مکہ سے مدینہ جانے والے تمام راستوں سے بخوبی واقف تھا۔ اسے اجرت پر ساتھ لے لیاگیا۔ جب یہ قافلہ قدید کے مقام پرپہنچا تو ان کے پاس خوراک کاذخیرہ ختم ہوگیا۔سرور کونین او ر ان کے ساتھیوں کو بھوک محسوس ہورہی تھی۔ اس لیے یہ قافلہ ام معبد کے خیمے کے سامنے جاکر رک گیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے ام معبد کی شہرت سن رکھی تھی۔ یہ خوش قسمت عورت اپنی غربت اور افلاس کے باوجود اپنی مہمان نوازی کے لیے اس صحرائی علاقے میں نہایت معروف تھی۔ وہ اس طرف سے گزرنے والوں کی تواضع گوشت،کھجوراور دودھ سے کرنا اپنا فرض سمجھتی تھی۔
اس وقت ام معبداپنے خیمے کے سامنے صحن میں بیٹھی ہوئی تھی حضور ﷺ نے اس سے ارشاد فرمایا اگر کھانے کی کوئی چیز تمہارے پاس ہو تو ہمیں دو ہم اس کی قیمت اداکریں گے۔ ان دنوں خشک سالی کادور دورہ تھا لہذاام معبد نے نہایت معذرت خواہانہ لہجے میں کہا خداکی قسم! اس وقت میرے گھر میں پیش کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر ہوتاتو فوراً حاضر خدمت کرتی۔ آپ نے نگاہ بھر کردیکھا تو اس کے خیمے کے ایک کنارے پر مریل سی بکری کھڑی تھی۔ آپ نے فرمایا معبد کی ماں اگر اجازت ہو تو ہم اس کادودھ دوھ لیں۔
ام معبد نے کہا بڑے شوق سے لیکن مجھے اس سے ایک قطرہ دودھ کی بھی امید نہیں ہے۔ رحمتہ لعالمین نے اپنا دست شفت بکری کی پیٹھ پر پھیرتے ہوئے دعا کی یااللہ اس عورت کی بکریوں میں برکت دے۔ آپ ﷺ کی دعاکے بعد ام معبد کی بکری کے تھن دودھ سے بھر گئے آپ ﷺ نے دودھ پہلے ام معبد کودیا اس نے جی بھر کرپیا، پھر اپنے ساتھیوں کوپلایا، اور آخر میں خودپیا۔
آپ ﷺ نے پھر اس بکری کودوہنا شروع کیا حتی کہ برتن لبالب بھر گیا، آپﷺ اس دودھ کوام معبد کے لیے چھوڑ کرآگے کی اور روانہ ہوگئے۔کچھ دیر بعداس کاخاوند واپس آگیا اس نے حیرانگی سے پوچھا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا۔ ام معبد نے کہا خداکی قسم! ایک بابرکت مہمان آ یاتھا خوداپنے ساتھیوں سمیت سیر ہوکر پیا اور یہ ہمارے لیے چھوڑدیا۔اس وقت ام معبد مسلمان بھی نہیں ہوئیں تھیں لیکن انہوں نے جس انداز میں حضور ﷺ کے شمائل کوبیان کیا وہ اپنی مثال آ پ ہے۔شوہر نے جب یہ ساری صفات سنیں تو کہنے لگا یہ تو وہی ہیں جن کے بارے میں ہم سنتے آئے ہیں اورکچھ عرصہ بعد دونوں میاں بیوی نے جاکر اسلا م کی دولت حاصل کرلی۔
آئیے حضور ﷺ کی ذات والاصفات پر درود شریف پڑھیں اور یہ عہدکریں کہ ہم آئندہ آنے والی زندگی میں محمدی بننے کی بھرپور سعی کریں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان،محبت رسول اور اسوہ رسول پر عمل کی توفیق عطافرمائیں آمین۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں