Mina Muhammad Usman 251

حضرت علامہ صوفی ڈاکٹر محمد عثمان عباسی القادری ؒ

حضرت علامہ صوفی ڈاکٹر محمد عثمان عباسی القادری ؒ
آپ ؒحضرت علامہ حکیم فیض محمد عباسی القادریؒ کے گھر پیدا ہوئے آپ کی پیدائش پر گھی کے چراغ جلائے گئے چونکہ آپ ؒ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے اور بہت سی منتوں،مرادوں کے بعد اللہ رب العزت نے حکیم فیض محمد ؒ کے آنگن میں اولاد نرینہ کی صورت میں عطا فرمایا تھا حکیم فیض محمد ؒ اس عطائے ربی پر بہت خوش ہوئے اور فوراََ سجدہ شکر بجا لائے۔
آپ ؒ کا سلسلہ نسب63ویں پشت میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے ملتا ہے آپ ؒ اپنے والد ین کی اکلوتی اولاد نرینہ تھے لیکن خاندان بھر میں آپ کی پیدائش پر خوشی اور انبساط کا سماں تھا خاندان کے ہر فرد کی خواہش تھی کہ اس کا منتخب کردہ نام ہی رکھا جائے لیکن یہ سعادت حضرت مولانا عبدالطیف عباسی القادری ؒ کے حصے میں آئی(مولانا عبدالطیف ؒ آپؒ کے ماموں تھے) اور انہوں نے خلیفہ سوم حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت سے نام محمد عثمان رکھا۔
یوں تو ہر شخص کی زندگی میں اس کی ابتدائی تعلیم اور اساتذہ کا بڑا واضح اور روشن کردار ہوتا ہے اور یہ عمر کے ہر حصے میں ہر عمل سے چھلکتا نظرآتا ہے لیکن ماموں محمد عثمان ؒ کی خوش نصیبی تھی کہ انہیں وقت کے بہت بڑے بڑے علمائے اکرام سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا۔ انہی اساتذہ اکرام میں آپ ؒ کے ماموں مولانا عبدالطیف ؒبھی قابل ذکر ہیں آپ بہت بڑے عالم دین،متقی اور پرہیز گار تھے ماموں عثمان ؒ نے سالتوں تک ان سے اکتساب فیض حاصل کیا۔
قیام پاکستان سے قبل آپ پرائمری تک تعلیم حاصل کر چکے تھے ساتھ ہی چاہی کے بالکل قریب واقع قصبہ لنگر کی مشہور و معروف علمی و روحانی شخصیت حضرت علامہ پیر سید حکیم شاہ ؒ کے پاس علمی و روحانی فیوض حاصل کرنے جایا کرتے تھے گوکہ پاکستان بننے سے قبل آپ کی عمر محض 12یا 13سال تھی مگر شعوری طور پر آپ کسی بھی عال و بالغ آدمی سے کم نہ تھے تعلیم سے ان کی محبت گٹھی میں پڑی ہوئی تھی اور حصول علم و معلومات کے شوق نے انہیں ہمیشہ بے قرار کیے رکھا۔پاکستان بننے کے بعد آپؒ نے برصغیر پاک و ہند کے ممتاز عالم دین حضرت علامہ ابو البرکات ؒ کے مدرسہ میں داخلہ لیا۔گوکہ والدین کی اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے آپ بہت لاڈلے تھے لیکن تعلیم حاصل کرنے کا شوق ان کی رہ میلں کوئی رکاوٹ پیدا نہ کرسکا۔ہمیں آپ نے وقت کے ممتاز اساتذہ کرام سے جی بھرکر اپنی علمی تشنگی بجھائی۔ اسی مدرسے سے آپ نے درس نظامی پاس کیا ساتھ اپنی تعلیم میٹرک پاس کر کے علاقہ چاہی کے اولین میٹرک پاس افراد میں شامل ہوئے۔
آپ ؒبنیادی طور پر ایک شفیق،مہربان،ہمدرد اور پر خلوص فرد تھے آپ کا طبعی میلان تعلیم و متعلم سے بہت گہرا تھا لہذا عمر بھر آپ نے اپنے علم سے دوسروں کو نفع پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔جامع مسجد حویلی گراں کی امامت ہو یا اقامت دین کے لیے ان کی گئی کاوشوں کا تذکرہ آپ نے عمر بھر دین اسلام کے خادم کے طور پر اپنی خدمات پیش کیں۔ گو کہ آپ کے جد امجد حضرت پیر عبدالعزیز غازی عباسی القادری ؒسترھویں صدی کے آخر میں اس کفر کدے میں اسلام کی اولین شمع روشن کرتے ہوئے اہلیان چاہی کو اسلام کی ٹھنڈی میٹھی اور سایہ دار آغوش فراہم کی تھی اپنے بزرگ محترم کی تعمیل میں عمر بھر آپ بھی اعلائے کلمۃ اللہ کی سربلندی کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ مصرو ف عمل رہے۔
یوں تو آپ نہایت نفیس،خوش لباس،خوش گفتار فرد تھے لیکن ساتھ ساتھ قرآن کے حکم ”سیر کرودنیا کی اور غور کرو اس میں پھیلی ہوئی چیزوں پر“کو عملی طور پر اپنے اوپر نافذ کرتے ہوئے ملک کے طول و عرض کے عملی دورے کیے۔کراچی سے فیصل آباد اور پاکستان کے بڑے شہروں کے سفر کیے ان اسفار میں ان کے ساتھ جو قریبی دوست شامل ہوتے تھے انہوں نے سفر کے دوران ماموں عثمان ؒ کے مشاہدے کی حس اور یادداشت کے عملی نمونے اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کیے اور دوسروں کو بھی سنا کر محظوظ کر تے رہے۔
آپؒ بنیادی طور پر مبلغ اور مصلح تھے اسلام،معاشرہ،خدمت اور کام آنے کی عادت آپ کے امتیازی اوصاف میں سے ایک تھی۔انہی اوصاف نے بالآخر انہیں عملی سیاست میں حصہ لینے پر مجبور کر ڈالا اور آپ نے ضلع کونسل کے الیکشن میں حصہ لیا۔اس عملی سیاست کے آغاز کے بعد آپ نے حلقہ بھر بلکہ ضلع بھمبر کی سیاست میں جاندار اور مثبت کردار ادا کیا پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ آپ چودھری صحبت علی مرحوم کے عزیز ترین اور وفادار ترین ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے بعد میں چودھری محمد رشید مرحوم کے ساتھ آپ کی رفاقت مثالی راجہ مقصود احمد،راجہ ذولقرنین خان سابق صدر ریاست اور دیگر دوسرے سیاسی لیڈران نے ہمیشہ آپ کو ایک بزرگ،نیک،سیاسی و مذہبی خانوادے کے سنجیدہ او ر بیدار مغز کی طرح عزت اور احترام سے نوازا۔
آپ ؒ کا حلقہ احباب تو خاصا وسیع وعریض تھا لیکن چند اہم ترین دوستوں میں پیر سید بدرحسین شاہ ؒ،پیر سید قمر حسین شاہ،ماسٹر محمد رفیقؒ،راجہ بوٹا خان مرحوم،راجہ سرور خان مرحوم،راجہ علی شان مرحوم (سابق صدر ٹیچرز آرگنائزیشن) اور چودھری محمد نذیر کے نام قابل ذکر ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے آپؒ کو دو بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا۔ بیٹے یعنی اولاد نرینہ نے تو محض کچھ دنوں بعد آپ کا ساتھ چھوڑ کر رب العزت کے جنتوں کی طرف کوچ کر گیا لیکن آپ کی بڑی بیٹی سے آپ کے چار نواسے اور ایک نواسی پیدا ہوئیں اسی دوران آپ کی بیٹی وفات پا گئیں اور ان کی وفات کے محض دو سال بعدآپؒ کے داماد حبیب الرحمان ؒ بھی ہندوستان کی جارحیت کا شکار ہو کر شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہو گئے۔آپ عمر بھر گردش دوراں کا شکار رہے مختلف قسم کی آزمائشوں نے انہیں گھیرے رکھا لیکن ایک سچے مسلمان کی طرح ہمیشہ صدما ت پر صابر اور شاکر رہے اسے اللہ رب العزت کی طرف سے امتحان اور اس کی رضا سمجھ کر راضی بڑضا رہے۔الحمدللہ!،انا للہ وانا الیہ راجعون جیسے کلمات آپ کی زبان پر جاری رہتے اپنی جوان بیٹی اور داماد کے نماز جنازہ کی ادائیگی کے وقت آپ صبر اور رضا کا پہاڑ نظرآئے۔
حضرت علامہ پیر عبدالعزیز غازی عباسی القادریؒ کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے آپؒ نے مخلوق خدا کو اس کے دین کی طرف راغب کرنے،نیز اسلام کے مکمل ضابطہ حیات کو سمجھنے کے لئے اپنے فرض کی ادائیگی سے لمحہ بھر کے لیے پہلو تہی نہیں بھرتی آپ کے مریدین کی کثیر تعداد پاکستان کے مختلف شہروں میں آج بھی آباد ہے مزے کی بات یہ ہے کہ وہ اپنی پیری مریدی والے معاملے کے برخلاف ان کا اپنے مریدین سے رشتہ محض رضائے الٰہی کے حصول کے لیے تھا انیہں کسی ذاتی نفع سے کوئی غرض نہ تھی اور نہ ہی ان کا مطمع نظر دنیا اور اس کی فانی چیزیں تھیں یہی وجہ ہے کہ آپ کے مریدین،بے تکلف آپ کے گھر تشریف لاتے اور کئی دنوں تک مہمان رہتے۔مریدین کے بچوں کے نام رکھنے سے لے کر ان کی تعلیم،نوکری کے حصول حتیٰ کے شادی تک کے معاملات میں آپؒ کی رائے مقدم سمجھی جاتی۔
یوں تو آپؒ نے زمانہ طالب علمی میں ہی لنگر(نوشہرہ) سے طب کی باقاعدہ تعلیم و تربیت حاصل کر رکھی تھی اور شعبہ حکمت نسل در نسل آپؒ کا ورثہ بھی تھا لیکن آپ نے ڈاکٹر علی بہادر صاحب مرحوم کی باقاعدہ شاگری اختیار کر کے ایلوپیتھک طریقہ علاج میں مہارت حاصل کی اس کے KEMCلاہور سے پیرا میڈیکل ڈپلومہ بھی حاصل کیا ساتھ بیت الحکمۃ فیصل آباد سے تین سالہ میڈیکل کا کورس کیا یوں آپؒ حکومت پاکستان و آزادکشمیر کے رجسٹر ڈڈاکٹر و حکیم تھے۔
خدمت خلق کے لیے اللہ رب العزت نے آپؒ کا انتخاب فرما لیا تھا لوگوں کے دن رات،صبح وشام کام آنا گویا ان کی عادت اور فطرت کا حصہ بن چکا تھا چاہی سے سونا ویلی تک پیدل آپؒ بغیر فیس کے روزآنہ کی بنیاد پر درجنوں مریض چیک کرتے اگر کسی نے احساس کرتے ہوئے کچھ پیسے دے دیے تو اچھا ورنہ آپؒ نے کبھی تقاضا نہیں کیا اللہ تعالیٰ نے آپ ؒکے ہاتھ میں خاص شفا عطا کر رکھی تھی بڑے سے بڑے امراض میں مبتلا مریضوں کو محض تھوڑی سی دوا سے اللہ رب العزت نے حیرت انگیز طور پر شفایاب کیا۔
آپؒ نہایت نفاست پسند اور خوش لباس انسان تھے تقریباََ عمر بھر سفید کپڑوں جناح کیپ یا پگڑی میں ملبوس رہے سردیوں میں ہلکی پھلکی ویسکوٹ بھی آپ کے پہناوے کا حصہ ہوتی تھی۔ اخلاق حسنہ کے اعلیٰ مقام ومرتبہ پر فائزتھے ہر وقت مسکر ا کر بات کر نا۔دھیمے مگر دلیل بھرے لہجے میں بات کرنا گویا آپ کے مزاج کا حصہ تھا آپ کی خوش اخلاقی سے علاقے بھر کا ہر فرد متاثر تھا اورآپؒ کی شفقت محبت اور ہمدردی کے گیت گاتا نظر آتا تھا۔
منبر و محراب سے محبت تو گویا آپ کو ورثے میں ملی تھی اس کے ساتھ ساتھ عشق رسول ﷺ کا دریا بھی آپؒ کے سینے میں موجزن تھا محض پندرہ برس کی عمر میں زیارت رسول ﷺ کا شرف گویا آپ کی حضور ﷺ سے محبت کا عملی مظاہرہ اور نمونہ تھا لیکن آپ نے عمر بھر اس سعادت کا تذکرہ گنے چنے لوگوں سے کیا۔
تمام مکاتب فکر،مسالک کے ساتھ ساتھ آپؒ ہر قبیلے کے لیے یکساں عزت واحترام کے حقدار ٹھہرے۔گروہی،لسانی،علاقی تعصبات کو ختم کرنے کے لیے جس منفرد انداز میں آپ نے اپنی ذات پیش کی اس کی مثال ملنا بعید از قیاس ہے۔
واعظ،ناصح ہونے کے ساتھ ساتھ آپ نے خاندان،علاقہ کے ہر قسم کے تنازعات میں ہمیشہ مثبت اورشاندار کردار ادا کیا بڑے سے بڑے جھگڑوں میں لوگ آپ کے فیصلے کو مان لینا باعث سعادت اور خوش بختی تصور کرتے تھے۔
یوں تو زندگی بھر انسان کے مختلف معاملات میں اختلاف اور مخالفت کا عنصر پایا جاتا ہے لیکن آپؒ کی خوش نصیبی ہے کہ آپ نے اپنی پوری زندگی غیر متنازعہ ترین فرد کے طور پر گزاری گویا آپ کی ذات کے حوالے سے لوگوں نے ہمیشہ حسن ظن سے کام لیا۔
آپ ؒنے تقریباََ80سا ل کی عمر تک انتہائی چاق و چوبند زندگی گزاری۔مسجد،منبر،محراب ہو یا خدمت خلق،سیاست کا میدان کارزار ہو یا ثالثی کا کردارا ٓپؒ نے تمام شعبہ ہائے زندگی میں بھرپور حصہ لیا اورآخر دم تک ہشاش بشاش رہے محض چند دن بیمار رہنے کے بعد آپؒ 7ستمبر2020ء؁ بروز پیر کو شام 7:15کے وقت شہادت کا ورد کرتے کرتے خالق حقیقی سے جا ملے اور 8ستمبر برو ز منگل چاہی سنمبل کے مقام پر آسودہ خاک ہوئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
تو اکیلا تو نہیں رخصت ہوا اس باغ سے سب بہاریں،رونقیں تو ساتھ اپنے لے گیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں