ALI IMRAN MUMTAZ 5

دائرہ علم و ادب کی دوسری کل پاکستان اہل قلم کانفرنس

لو جی ہم آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی اکتوبر کی ورکشاپ سے فارغ ہی ہوئے تھے کہ دائرہ علم وادب پاکستان کے زیر اہتمام کل پاکستان اہل قلم کانفرنس کا اعلان ہوگیا۔ جھٹ پٹ اپنی آن لائن رجسٹریشن کروائی۔ویسے تو ہم بڑے سیاح بنے پھرتے ہیں لیکن پتہ اتنا بھی نہیں تھا کہ پھالیہ پہلے آتا ہے یا منڈی بہاوالدین؟گجرات سے کتنی دوری پرہے شہر ہے یا دیہات؟ خیر ہم نے اپنے منڈی بہاوالدین کے دوست شاہد اکرام سے تفصیلات حاصل کیں۔ موصوف نے باقاعدہ نقشہ بنا کر سمجھایا کہ میرپور سے پھالیہ جا سکتے ہی؟ دوسرا راستہ کھاریاں سے منڈی بہاؤ الدین اور وہاں سے پھالیہ جاتاہے جبکہ تیسرا گجرات سے پھالیہ پہنچا جاسکتاہے؟ ہم نے آخر الذکر کوترجیح دی۔ایک دن قبل ڈاکٹر افتخار کھوکھر کانفرنس کا نظام الاوقات بھیج کر یہ باور کروا چکے تھے کہ ہفتہ بعد دوپہر کانفرنس شروع ہوگی لہذا آرام سے ہفتہ کی صبح مبارک سفر کا آغاز کیا۔ گیارہ بجے ہم بھمبر سے گجرات اڈے میں پہنچ چکے تھے۔ دل کی تسلی کے لیے محمد ضیغم مغیرہ بھائی کو فون کیا لیکن وہ بوجوہ کال اٹینڈ نہیں کرسکے لیکن ٹھیک دومنٹ کے بعد ان کی کال آگئی۔ سلام کے بعد کانوں میں رس گھولتی خلوص بھری آواز نے جی خوش کردیا۔ موصوف نے بڑی محبت سے سمجھایا کہ پھالیہ والی گاڑی میں بیٹھ جائیں اور غزالی چوک میں اتر جائیں سامنے کانفرنس کا ک
پنڈال ہوگا۔ سوتروں کے مطابق گجرات سے پھالیہ کا سفر گھنٹہ سوا گھنٹہ کا تھا لیکن ڈرائیور بھائی نے پرانا بدلہ اتارتے ہوئے سوا ایک بجے بمشکل غزالی چوک میں اتارا۔ سامنے ہی میونسپلٹی کی طرف سے ایک بورڈ پر پھالیہ کی تاریخ درج ہے۔ یہ پنجاب میں ایک تاریخی شہر ہے جہاں سکندراعظم کا گھوڑا فوت ہو کر آسودہ خاک ہے۔ اور اس کا مزار شریف بھی موجود ہے۔ پھالیہ کا نام نامی اسی گھوڑے کے نام پر ہے۔

خیر سیدھے پنڈال میں جا پہنچے جہاں سے کسی نے پوچھا کہ کانفرنس کے لیے آئےہیں؟ ساتھ ہی دفتر کی طرف اشارہ کردیا کہ وہاں تشریف لے جائیں۔ ہم چھ گھنٹے کے طویل اور تھکا دینے والے سفر کے بعد خیر سے دفتر پہنچنے میں کا میاب ہوچکے تھے۔ ہہنچتے ہی منتظمین نے ہمیں بہت ہی محبت اور احترام سے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اور ضیغم مغیرہ بھائی کے دفتر میں بھیج دیا۔
ضیغم مغیرہ صاحب جو غزالی اسکولز و کالجز کے کرتا دھرتا ہیں۔ چہرہ پر بہت ہی پر کشش مسکراہٹ کے ساتھ ہر آنے والے کا استقبال کررہے تھے۔ انہوں نے ہمیں گرم جوشی سے خوش آمدید کہا اور چائے سموسے سے تواضع کی۔ مہمانوں کی آمد میں ابھی تاخیر تھی لہذا نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد سب سے پہلے ہم نے ڈیسک پر اپنی رجسٹریشن کروائی۔ جہاں ہمیں کانفرنس کا بیج لگایاگیا۔ ایک عدد بستہ جس میں قلم کاغذ اور کانفرنس کے پروگرام کی تفصیل تھی۔ ہمارے حوالے کیا گیا۔ پھر ہم اپنا سامان رکھنے کے لیے رہائش گاہ چلے گئے۔ تین سو کے قریب مہمانوں کے رات کے قیام کے لیے صاف ستھرے بستر لگا دئیے گئے تھے۔ رہائش گاہ کو علاقے کے ناموں سے منسوب کیا گیا تھا۔وسیع وعریض قیام گاہ میں بیگ رکھ کر کھانے کے لیے طعام گاہ کے بڑے سے پنڈال پہنچے جہاں بہت ہی پر تکلف کھانا ہمارا منتظر تھا۔ ہم نے بھی طعام کے ساتھ خوب انصاف کیا۔ بعد ازاں چائے کا دور چلا۔ اس مصروفیت سے نکل کر ہم کانفرنس کے پنڈال میں پہنچے جہاں ریڈ کارپٹ اور خوبصورت پھولوں اور غباروں سے سجی گزرگاہ اور محرابیں مہمانوں کے استقبال کیلیے بے چین نظر آرہی تھیں۔ اسٹیج بھی بہت خوبصورتی کے ساتھ سجایاگیا تھا۔ فوٹو گرافرز اور فیس بک پر لائیو کوریج کے انتظامات موجود تھے یہاں تک کہ ڈرون کیمرے بھی محوِ پرواز تھے۔ اس دوران ہماری اتنی تصاویر کھینچی گئیں جیسے ہم اس کانفرنس کے دولھا ہوں۔

پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول ؐ سے ہوا۔ جس کے بعد دائرہ کے سرپرست ضیغم مغیرہ صاحب نے استقبالیہ خطاب فرمایا۔ پھر صدر دائرہ جناب احمد حاطب صدیقی صاحب نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر کما حقہُ روشنی ڈالی۔ یوں کانفرنس کا باضابطہ آغاز ہوا۔
ہہلی ہی نشست میں محترم خلیل الرحمٰن چشتی صاحب نے ” تعمیری ادب کے تشکیلی عناصر” پر معلومات سے بھر پور اور بہت ہی ہر مغز خطاب فرمایا اور حاضرین نے دل کھول کر پزیرائی کی۔

دوسری نشست میں ” تعمیری ادب کا فروغ کیسے ہو؟” کے موضوع پر ایک بہت ہی دلچسپ مذاکرہ ہوا۔ جس میں ڈاکٹر فخر الاسلام پشاور۔ ڈاکٹر ظفر حسین ظفر راولاکوٹ، شیخ فرید کوئٹہ،ڈاکٹر اعجاز فاروق اکرم فیصل آباد اور محمد افضل رائید کراچی نے حصہ لیا اور اپنے اعلٰی خیالات سے شرکاء کو مستفید کیا۔ نظامت کے فرائض عطا محمد تبسم نے نہایت خوبصورتی سے انجام دئیے۔

اس کے بعد علامہ اقبال کی مشہور نظم ” شکوہ ” کی بصری پیشکش محترم عبید اللہ کیہر صاحب نے شرکاء کو دکھائی۔ جس میں پاکستان کی ٹیناثانی نے اردو اور مصر کی ام کلثوم نے عربی میں ترجمہ سناکر حاضرین کو محظوظ کیا۔ اور بہت داد وصول کی۔

نماز عشاء کے بعد ایک بار پھر بہت ہی پرتکلف عشائیہ دیاگیا۔ ازاں بعد ایک بہت ہی شاندار اور جاندار کل پاکستان مشاعرہ منعقد ہوا۔ جس میں اسی کے قریب شعراء نے اس شرط کے ساتھ کلام سنایا کہ صرف تین شعر پڑھنے کی اجازت ہے ورنہ محفل صبح تک چلی جائے گا جبکہ دوسرے دن بھی کانفرنس ہوناتھی۔ مگر وہ شاعر ہی کیا جو تین اشعار کی پابندی کرے لہٰذا اکثر شعراء نے تین سے زائد اشعار سنائے۔ خواتین شعراء نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ چالیس شعراء کاتعلق پھالیہ اور اس کے قرب و جوار سے تھا۔جس کا مطلب یہ تھا کہ منڈی بہاؤ الدین کا علاقہ ادب کے لیے بہت زرخیز ہے۔ آخر میں جب رات بھیگ چلی تھی صدر مشاعرہ جناب عباس تابش نے اپنے کلام سے گویا مشاعرہ لوٹ لیا۔ ان کا ایک بہت ہی خوبصورت شعر حاضر ہے جس نے سامعین کی آنکھیں نم کردیں۔

۔۔۔ ایک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
۔۔۔ میں نے ایک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے۔

بھیگی بھیگی رات اور بھیگی بھیگی آنکھوں کے ساتھ یہ مشاعرہ رات ایک بجے اختتام پذیر ہوا۔
نیند سے مخمور آنکھوں اور تھکن سے چور بدن کے ساتھ کچھ شرکاء تو جلد ہی نیند کی آغوش میں چلے گئے لیکن بعض خواتین کی طرح ایک دوسرے کو شجرہ سناتے رہے۔ نماز فجر باجماعت پانچ پینتالیس پر ہوگی یہ سنتے ہی بستر سے معذرت کرتے ہوئے مسجد کی راہ لی۔ نماز کے بعد تھوڑی دیر قرب وجوار کوگھوم کردیکھا۔بہرکیف یہ ایک نئی سہانی صبح تھی اور اس کے بابرکت آغاز سے یہ یقین سا ہوگیا کہ کانفرنس کے دوسرے دن کے پروگرامات بہت اچھے ہوں گے۔

ضیغم مغیرہ صاحب نے پہلے ہی اعلان کردیا تھا کہ دوسرے دن ناشتہ میں دس ڈشیں ہونگی۔ ساگ،مکھن،لسی، پائے،چنے،دہی،حلوہ پوڑی، آملیٹ، میٹھے انڈے روغنی نان،پراٹھے اور چائے کو ملا کر یہ کسی بادشاہ کا دستر خوان لگ رہا تھا۔ میزبانوں نے ہمیں کھلا کھلا کر مارنے کا پورا بند و بست کررکھا تھا لیکن ہم بھی ڈھیٹ نکلے۔ ان کے کھانوں سے تو نہ مرے مگر ان کی محبتوں نے ہمیں جیتے جی مار ڈالا۔

ناشتے کے بعد ملتان والی بس میں سوار ہوئے جہاں علی عمران ممتاز اور عبداللہ نظامی سے ملاقات ہوئی۔ تھوڑی دیر میں بسم اللہ شادی ہال پہنچے جہاں ایک بہت بڑے ائرکنڈیشنڈ ہال میں بہت ہی خوبصورت اور سحر آفریں ماحول نےہمیں خوش کردیا۔ اسٹیج بھی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ صوفوں اور کرسیوں کے ساتھ حسین ٹیبل لیمپس رکھے گئےتھے جن کی رنگ برنگی مسحورکن روشنی نے ایک سماں باندھ دیاتھا۔ یہاں بھی ملٹی میڈیا، فوٹو گرافی اور ڈرون کیمروں کا بھرپور استعمال دیکھنے میں آیا۔ پوری کانفرنس کی لائیو کوریج فیس بک پر جاری تھی۔

دوسرے دن کی پہلی نشست اور کانفرنس کی چوتھی نشست میں سب سے پہلے جناب کرنل اشفاق حسین کی صدارت میں ایک نثری نشست کا اہتمام کیا گیا تھا۔ سب سے پہلے ظفر عالم طلعت کو دعوت دی گئی کہ بزبان خود اپنی گدگداتی تحریر پیش کریں۔ حکم حاکم مرگ مفاجات کے مصداق تعمیل کے علاوہ چارہ نہ تھا۔ مذکورنے ایک مضمون بعنوان
” پرس ” پیش کیا تاکہ پرس کی وجہ سے خواتین بھی لطف اندوز ہوں اور مرد حضرات خواتین کو دیکھ کر دل پرس کو پذیرائی بخشیں۔

اس کے بعد محترم جناب عامر بشیر صاحب (جو کہ صاحب کتاب بھی ہیں) نے اپنا مضمون ” لوٹا ” پیش کیا جس کو سن کر سب ہی لوٹ پوٹ ہوگئے۔ اور خوب داد دی۔ آخر میں صاحب صدر جناب کرنل اشفاق حسین صاحب نے اپنی کتاب سے کچھ اقتباسات پیش کئے جس سے ہم سب بہت محظوظ ہوئے اور دل کھول کر داد دی۔

چوتھی نشست بعنوان “ادب اطفال۔عصری تقاضے” کے عنوان سے منعقد ہوئ۔ جس میں محترم اشفاق احمد خان اور ڈاکٹر محمد افضل حمید نے اپنا تحقیقی مقالا پڑھا اور بچوں کے ادب اور اس کی موجودہ ضروریات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ جس میں صدر محفل ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر نے بھی بھرپور حصہ ڈالا۔

بعد ازاں پانچویں نشست “ادب کی گمشدہ کہکشان” منعقد ہوئی۔ جس میں ڈاکٹر ساجد خاکوانی اور ضیغم مغیرہ صاحب نے تفصیلی اظہار خیال کیا اور صاحب صدر جناب خلیل الرحمٰن چشتی صاحب نے موضوع کو بہت خوبصورتی سے سمیٹا۔

اس کے بعد ظہرانہ ہوا۔ اور حسب معمول میزبانوں نے کھانے پر اتنا زور دیا کہ کچھ شرکاء کو کہنا پڑا کہ یہ اہل قلم سے زیادہ اہل شکم کانفرنس لگتی ہے۔
بندہ کے واپس جانے کا وقت ہوگیا تھا کیونکہ بھمبر سے آخری گاڑی شام ساڑھے سات بجے نکلتی تھی اتوار ہونے کی وجہ سے لاہور والا ڈبہ بھی دغا دے چکاتھا۔ لہذا بجھے دل کے ساتھ رجسٹریشن ڈیسک والوں سے اپنی سند شرکت لے کر گھر کی اور روانہ ہوگیا۔
یقیناَ بقیہ سیشنز حسب روایت شاندار ہوئے ہوں گے۔
یہ کانفرنس اور ضیغم مغیرہ صاحب کی میزبانی مدتوں یاد رہے گی اللہ رب العزت سب کے علم وعمل میں برکت عطا فرمائے۔ أمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں