اخوت کے گلشن میں علم وقلم کی خوشبو
دسویں قومی اہلِ قلم کانفرنس 2026ء
پاکستان کی تعمیر و ترقی اور فروغِ علم میں اہلِ قلم کا کردار
تحریر: مدثریوسف پاشا تحصیل سماہنی آزادکشمیر
علم کی روشنی جب اخلاص کی خوشبو سے ملتی ہے تو ایک ایسا ماحول جنم لیتا ہے جہاں لفظ صرف لکھے نہیں جاتے بلکہ معاشروں کی تقدیر بدلنے کا حوصلہ بھی پیدا کرتے ہیں۔ قلم کی طاقت ہمیشہ سے قوموں کی تعمیر اور انسانیت کی رہنمائی کا ذریعہ رہی ہے۔ جب اہلِ قلم ایک چھت تلے جمع ہوں تو وہ محض ایک اجتماع نہیں رہتا بلکہ علم، فکر اور شعور کی ایک روشن محفل بن جاتا ہے۔
محترم محمدشعیب مرزا نے خوش خبری سنائی کہ اس سال اس علمی وادبی کہکشاؤں کو سجانے کے لیے جس مقام کا انتخاب کیا گیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔کیونکہ اخوت یونیورسٹی قصور محض ایک تعلیمی ادارہ ہی نہیں ہے بلکہ ایک فکر، ایک خواب اور ایک عملی مثال ہے کہ اگر نیت صاف اور مقصد بلند ہوتو و سائل کی کمی بھی راستہ نہیں روک سکتی۔ یہ ادارہ اخوت فاؤنڈیشن کے تعلیمی ویژن کا روشن چہرہ ہے۔ اخوت فاؤنڈیشن کی بنیاد ڈاکٹر امجد ثاقب نے مواخات مدینہ کے عظیم تصویر کو سامنے رکھ کر رکھی تھی۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد معاشرے کے لیے ہوئے طبقات کو بلا سود قرضوں کی فراہمی اور تعلیم کی سہولیات کے ذریعے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ اخوت نے ثابت کیا خدمت خلق محض نعرہ نہیں ہے بلکہ عملی جدوجہد کا نام ہے۔
15 فروری 2026ء کا دن بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ اخوت یونیورسٹی کے پُرسکون اور علم دوست ماحول میں پاکستان بھر سے آئے ہوئے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کا ایک قافلہ جمع ہوا۔ مقصد صرف ملاقات نہیں تھا بلکہ علم و ادب کے چراغ کو مزید روشن کرنا اور نئی نسل کی فکری رہنمائی کے لیے اپنے خیالات کا اظہار کرنا تھا۔یہی وہ یادگار لمحہ تھا جب دسویں قومی اہلِ قلم کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس کا موضوع تھا:
“پاکستان کی تعمیر و ترقی اور فروغِ علم میں اہلِ قلم کا کردار”۔
اخوت یونیورسٹی کا وسیع و عریض کیمپس اس دن واقعی علم، محبت اور اخوت کے رنگوں سے سجا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ قصور کی سرزمین صدیوں سے محبت علم اور انسان دوستی کی امین رہی ہے۔ یہی دو مٹی ہے جہاں بابا بلھے شاہ کے کلام نے دلوں کو وسعت اور فکر کو پرواز دی اور انہی روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے قصور میں چند دن پہلے بچوں کے ادب علم دوستی اور خدمت خلق کا ایک ایسا حسین احتراج دیکھنے کو ملا جس کااثر تادیر قائم رہے گا۔ ہر طرف خوش اخلاقی، مہمان نوازی اور علمی گفتگو کا ایک دلکش منظر تھا جو اس تقریب کو یادگار بنا رہا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ایک روز جب موبائل فون کھولا تو محترم محمد شعیب مرزا (ایڈیٹر ماہنامہ پھول) کی جانب سے اس کانفرنس کا خوبصورت دعوت نامہ موصول ہوا۔ اس دعوت نامے کو دیکھ کر دل خوشی سے بھر گیا۔ اس میں ہمارے انتخاب کے بعد باضابطہ شرکت کی دعوت موصول ہوئی جس سے مسرت دوبالا ہوگئی۔ساتھ ہی لاہور اور بیرون لاہور کے ادباء کو یونیورسٹی میں پہنچنے کے لیے لوکیشن کے ساتھ ساتھ دیگر ضروری معلومات بھی فراہم کی گئی تھیں۔
بندہ چونکہ عین کنٹرول لائن سے عازم سفرہوتاہے لہذامناسب یہی تھا کہ ہفتہ کی شام کو لاہور پہنچا جائے وگرنہ اتوار کو ہمارے ہاں سے لاہور کے لیے گاڑیاں نہیں جاتیں۔ یہی معاملہ جب محترم محمد شعیب مرزا کے گوش گزار کیاتوانہوں نے یونیورسٹی میں رہائش کی پیش کش کردی جسے راقم نے اس وجہ سے مسترد کردیاکہ سماہنی سے لاہورپہنچتے پہنچتے دس گیارہ بج جاتے ہیں ایسے میں نئی جگہ پہنچنا تھوڑا مشکل ہوتاہے لہذا ایک عزیز کے ہاں رہنے کاپروگرام بنایااور رات گیارہ بجے اپنی منزل پرجاپہنچا۔
نماز فجر کی ادائیگی کے بعد داتا دربار پہنچ آیا اور وہاں سے قصور والی ڈائیو پر سوار ہوکر مصطفی آباد ٹول پلازہ پر اتر گیا۔ پوچھے پر پتہ چلا کہ پانچ منٹکی مسافت پر نہر پر واقع پل کے ساتھ سے ایک روڈ یونیورسٹی جارہی ہے پل پر پہنچتے ہی ملتان کے کالم نگار برادرم چودری دلاور حسین سے ملاقات ہوئی اور یوں دونوں تھوڑے دیر پیدل چلنے کے بعد یونیورسٹی پہنچ گئے۔ یونیورسٹی کے دروازے پر تعینات سیکیورٹی اہلکار مسکراتے ہوئے مہمانوں کا استقبال اور رجسٹریشن کر رہے تھے۔استقبالیہ پر پھالیہ سے دیرینہ دوست سے ملاقات ہوگئی انہوں نے بیگ اور اس میں موجود دیگر تحائف دئیے۔
کچھ ہی دیر بعد تقریب کے میزبان محمد شعیب مرزا تشریف لائے۔ آپ براؤن لباس اور خوبصورت واسکٹ میں ملبوس تھے۔ انہوں نے تمام مہمانوں سے گرمجوشی سے ملاقات کی اور خاص طور پر راقم اور چودرھری دلاور حسین سے نہایت اپنائیت سے ملے انہی کے کہنے پر ہم نے اپنا سامان ان کے مخصوص کمرہ میں رکھ دیا اور بے فکری سے یونیورسٹی کاوزٹ کرنے لگے۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے مہمانوں کو مختلف شعبہ جات کا دورہ بھی کروایا۔ یہاں زیرِ تعلیم طلبہ، جن کا تعلق پاکستان کے چاروں صوبوں کے علاوہ آزادکشمیر اورگلگت بلتستان سے تھا، نہایت اعتماد کے ساتھ اپنا تعارف پیش کر رہے تھے۔ ان کا یونیفارم بلیک شوز، خاکی پینٹ، سفید شرٹ اور سبز کوٹ پر مشتمل تھا۔
اخوت یونیورسٹی کا وسیع و عریض کیمپس تقریباً ایک سو ایکڑ پر محیط ہے۔ اس کی بلند و بالا عمارتیں اور خوبصورت ماحول ہر آنے والے کو متاثر کرتا ہے۔ یونیورسٹی کی دیواروں پر علم و اصلاح کے پیغامات تحریر تھے جو طلبہ کی فکری تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اخوت کے بنیادی اصول یہ ہیں:ایمان (Faith)،احسان (Excellence)،اخلاص (Sincerity)،انفاق (Giving)یہ تمام اقدار انسانی فلاح اور بھائی چارے کی روح کو مضبوط بناتی ہیں۔
کلاس رومز، لائبریری اور کھیل کے میدان دیکھ کر مہمانوں کو بے حد خوشی ہوئی۔ سب سے زیادہ حیران کن چیز یونیورسٹی کی Honesty Shop تھی، جو بغیر دکاندار اور سیلز مین کے چل رہی تھی۔ یہاں طلبہ اپنی ضرورت کی اشیاء خود لیتے اور رقم باکس میں ڈال دیتے ہیں۔ اگر کسی طالب علم کے پاس رقم نہ ہو تو وہ اپنا نام لکھ کر چیز لے جاتا ہے اور بعد میں رقم ادا کر دیتا ہے۔ ایمانداری کی یہ مثال واقعی قابلِ تحسین ہے۔
یونیورسٹی میں سیلف فارمنگ کا شعبہ بھی موجود ہے جہاں اناج، سبزیاں اور پھل خود کاشت کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح لائیوسٹاک اور ڈیری کے شعبہ میں گائے،بکریاں اور دیگر جانور موجود ہیں جن سے دودھ سمیت مختلف ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔
اخوت یونیورسٹی قصور کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کا زیرو فیس ماڈل ہے جہاں کسی بھی طالب علم سے تعلیم کے بدلے ایک روپیہ بھی وصول نہیں کیا جاتا۔ داخلہ صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختون خواہ گلگت بلتستان اور شمیر سمیت پورے پاکستان سے با صلاحیت نمر مالی طور پر کمزور بچوں کو علاقائی کوٹے کے تحت منتخب کیا جاتا ہے۔ یہاں طلبہ کو مفت رہائش، معیاری خوراک اور صحت مند سرگرمیوں کی بہترین سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تا کہ بچے صرف اپنی تعلیم صحت اور کردار سازی پر توجہ دیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے نتائج کسی بھی دوسرے ادارے سے کم نہیں ہیں۔
بعد ازاں ہمیں کانفرنس ہال میں لایا گیا جہاں تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ نظامت کے فرائض جنوبی پنجاب کی معروف علمی شخصیت قاری محمد عبداللہ نے انجام دیے۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے محمد عمیر رفیق نے کیا جبکہ نعت رسولِ مقبول ﷺ پڑھنے کی سعادت ارشد گیلانی کو حاصل ہوئی۔
پہلے سیشن میں مہمانانِ گرامی میں شامل تھے:
ڈاکٹر محمد امجد ثاقب (چیئرمین اخوت)،محمد شعیب مرزا (ایڈیٹر ماہنامہ پھول)،میجر ریٹائرڈ اعظم کمال،محسن نضیر
محمد شعیب مرزا نے بچوں کی تربیت اور گزشتہ سال کی ادبی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنے خطاب میں اخوت کے فلاحی مشن اور تعلیم کے ذریعے جہالت کے اندھیروں کو ختم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔چائے کے وقفے کے بعد دوسرے سیشن میں مسرت کلانچوی، امین شاعرہ اور تسنیم جعفری نے بچوں کی تربیت اور اخلاقی اقدار کے فروغ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
محترم محمدشعیب مرزا نے درمیان میں بتادیاتھا کہ ہم کانفرنس کے اختتام کے بعد کھانا کھائیں گے یوں کھانے کے انتظار کے ساتھ تیسرے اور آخری سیشن کا آغاز ہوا جس میں نازنین فیصل، ڈاکٹر حامد، ربیعہ نجم اور اعجاز احمد اعجاز نے خطاب کیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر فوزیہ سعید نے تھیلیسیمیا کے شکار بچوں کے لیے خون عطیہ کرنے کی اہمیت پر مفصل گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود 54 مرتبہ خون عطیہ کر چکی ہیں۔ ان کی اس خدمت پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
بعد ازاں مختلف مہمانان نے نئی نسل کی تربیت اور اہلِ قلم کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔کا نفرنس کے مختلف سیشنز میں حاضرین کے سامنے معروف علمی و ادبی شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل دور میں بچوں کو کتاب سے جوڑنا کس قدر ضروری ہے۔ مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا سکرین کے اس ہجوم میں اگر کتاب بچے کے ہاتھ سے چھوٹ گی تو ہم ایک پوری نسل کو گری تنہائی کے حوالے کر دیں گے۔مقررین نے کہا کہ یاد رکھیں کسی بھی زندہ اور تحرک معاشرے میں بچوں کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتی ہے۔ وہ محض حال کے نمائندے ہی نہیں ہوتے بلکہ مستقبل کے معمار بھی ہوتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ قوموں کی تقدیر کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی فکری، اخلاقی اور خلیق آبیاری کس انداز میں کرتی ہے یوں اس تناظر میں بچوں کے ادب کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔ بچوں کا ادب نہ صرف ننھے ذہنوں کو سچائی اور حسن فکر سے آشنا کرتا ہے بلکہ بچوں کی نفسیات کوسمجھنے کا بھی ایک موثر ذریعہ بنتاہے۔ تقریب میں ڈاکٹر امجد ثاقب کی گفتگو نے حاضرین کے دل جیت لیے۔ انہوں نے ادب اور اخلاقیات کے باہمی تعلق پر نہایت سادہ تر اثر انگیز انداز میں روشنی ڈالی اور بتایا اصل تعلیم وہی ہے جو انسان کو بہتر انسان بنائے۔
پرتکلف کھانے کے دوران ادیبوں کو ایک دوسرے سے ملنے، خیالات بانٹنے اور نئے رشتے استوار کرنے کا موقع بھی ملا۔ اخوت یونیورسٹی کے طلبہ اور عملے کی مستعدی اور خوش اخلاقی نے ہر آنے والے کو یہ احساس دلایا کہ وہ محض مہمان نہیں ہے بلکہ اس علمی درس گاہ کا حصہ ہے۔
تقریب کے اختتام پر ایوارڈز اور انعامات تقسیم کیے گئے۔اسی موقع پر راقم کو بھی دو ایوارڈ سے نوازا گیا، جو میرے لیے باعثِ اعزاز لمحہ تھا۔اس موقع پر اپنے رب کاشکریہ اداکرنے کے بعد محترم شعیب مرزا کی شفقت ومہربانی کے لیے دل سے شکرگزارہوں۔
بلاشبہ اس شاندار تقریب کے انعقاد میں محمد شعیب مرزا کی شبانہ روز محنت اور ادبی خدمات کا بڑا کردار ہے۔ ملک بھر کے ادیبوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا یقیناً ایک بڑا کارنامہ ہے۔ پاکستان میں اگر بچوں کے ادب کی بات ہواور ماہ نامہ پھول کا ذکر نہ آے تو گفتگو ادھوری رہتی ہے۔ اسی طرح اس میدان میں اگر کسی شخصیت نے خاموش مگر مسلسل جدو جہد کے ذریعے ایک تحریک کی شکل اختیار کی ہے تو وہ شعیب مرزا ہیں۔ وہ محض ایک مدیر ہی نہیں ہیں بلکہ بچوں کے ادب کے سچے خادم ہیں انہوں نے کمرشل ازم کے اس دور میں بھی قلم کی حرمت اور بچوں کے تخلیقی حقوق کا علم بلند رکھا ہوا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کی زندگی کا بڑا حصہ بچوں کے ادب کے فروغ، لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی اور ادبی اقدار کے تحفظ کے لیے وقف ہے۔یہ کانفرنس خلوص اور لگن کا عملی مظہر ہے جو شعیب مرزا گزشتہ دس برس سے اپنی ذاتی حیثیت میں بلا تعطل منعقد کردار ہے ہیں۔
اس کا نفرنس کا مقصد محض ایک تقریب منعقد کرنا نہیں ہوتا ہے بلکہ ملک بھر میں بکھرے بچوں کے ادبیوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا، ان کی خدمات کو سراہنا اور انہیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ان کا کام معاشرے کے لیے کتنا قیمتی ہے۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی پورے پاکستان سے تعلق رکھنے والے منتخب قلم کاروں کو اعزازات سے نوازا گیا جس سے نہ صرف سینئر لکھاریوں کی عزت افزائی ہوئی بلکہ تھے لکھنے والوں کو بھی آگے بڑھنے کا حوصلہ ملا۔
آخر میں میزبانوں نے مہمانوں کو خوش دلی کے ساتھ رخصت کیا۔ یہ تقریب اہلِ قلم کے لیے نہ صرف ایک یادگار موقع تھی بلکہ علم و ادب کے فروغ کی ایک روشن مثال بھی ثابت ہوئی۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ ایسی تقریبات محض رسمی اجتماعات نہیں ہوتی بلکہ یہ معاشرے کے فکری جمود کو توڑنے کا ذریعہ بھی بنتیہیں۔ ان سے لکھاریوں کو نیا حوصلہ ملتا ہے، نئے قلم کاروں کی تربیت ہوتی ہے اور معاشرے میں کتاب وقلم کی اہمیت دوبارہ اجاگر ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سلسلے کو نہ صرف جاری رکھا جائے بلکہ اس ضلع اور تحصیل کی سطح تک پھیلایا جائے۔ آخر میں یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ شعیب مرزا کی انتھک محنت اور ڈاکٹر امجد ثاقب کی بصیرت و سر پرستی میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ جب ادب اور خدمت خلق ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں تو امید، روشنی اور ایک تابناک پاکستان کی نوید جنم لیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ محترم محمدشعیب مرزا اور ان کے ساتھ تعاون کرنے والے جملہ احباب کوصحت وتندرستی سے نوازے۔آمین
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
951