سما ہنی 774

سما ہنی تحصیل ہیڈکوارٹر ہے۔مشرق میں گاہی جابہ،مغرب میں منانہ،شمال میں چاہی اور جنوب میں ہل کے علاقے واقع ہیں

حدوداربعہ : سما ہنی تحصیل ہیڈکوارٹر ہے۔مشرق میں گاہی جابہ،مغرب میں منانہ،شمال میں چاہی اور جنوب میں ہل کے علاقے واقع ہیں
آبادی : مجموعی علاقائی آبادی تقریباََ35000نفوس پر مشتمل ہے۔
رہن سہن : کچھ عرصہ قبل لوگوں کارہن سہن نہایت ساد ہ تھا لیکن پیسے کی فراوانی کی وجہ سے جدید مکانات کی بہتات ہوگئی ہے ہاں ابھی تک تقریباً جائنٹ فیملی سسٹم چل رہاہے بڑے بڑ ے خاندان ایک ہی چھت تلے اپنے معاملات زندگی ہنسی خوشی چلاتے ہیں۔
پیشے : زیادہ تر لوگوں کاذریعہ معاش آج بھی کھیتی باڑی اور جانور ہیں لیکن ملازم پیشہ ، بیرون ملک لوگوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔
غذائیں : گندم، مکئی ،چاول، باجرہ ،مکھن ،لسی، ساگ،دیسی انڈے، دیسی مرغ، مکئی کے پھول، چاٹ، بریانی، قورمہ ،سموسہ ،چاٹ، فالودہ ، چائے وغیرہ
زبانیں : زیادہ تر پہاڑی بولی جاتی ہے ہاں بعض جگہوں پر پنجابی لہجے کی پہاڑی بولنے کابھی رواج ہے پوری وادی میں اردو بولی ،لکھی اور سمجھی جاتی ہے۔
شرح تعلیم : تعلیم کی شرح 85% ہے۔
فصلیں : گندم ،مکئی ،باجرہ ،جو،دالیں ،چنے، گوبھی ،ٹماٹر، کھیرا، مولی ،پیاز،آلو، لہسن ،ادرک وغیرہ
موسم : خزاں،سرما،بہار،گرما
پھل : آم ،شاہ توت، آڑو، خوبانی ،امرود ،کیلا، مالٹا، لوکاٹ، لیموں ،ناشپاتی ،اناردانہ،آخرہ، پھگواڑے ،دندلی، رنمبل ،ٹسے، گرنڈے،کوکو،وغیرہ
کھیل : کرکٹ ،والی بال، بیڈمنٹن ، بازو گیری، ویٹ لفٹنگ (پتھر اٹھانا) ،فٹ بال، بلور، سنوکر، باڈی بلڈنگ ،گلی ڈنڈا، پٹھوگرم، پنجال گیٹہ ،لڈو، کیرم بورڈ ، ڈرابورڈوغیرہ
خانقاہیں : بابا شادی شہید، پیر پہاڑ بادشاہ
ٹرسٹ : امب دا بوٹا
سڑکیں : سما ہنی شہر سے د و مین روڈز سما ہنی تا بھمبر اور سما ہنی تا میرپور ہیں اس کے علاوہ تمام ہی گاؤں میں پختہ /کچی روڈز موجود ہیں۔
پانی : سما ہنی اور اس کے ملحقہ علاقوں میں پینے کے پانی کی سہولت بصورت ہینڈ پمپ وغیرہ موجود ہے۔
جنگلات : سما ہنی سے شمال کی جانب خنجر پہاڑی اور قدرین پہاڑی میں جنگلات بکثر ت ہیں جبکہ آبادی کے نزدیک جنگلات کی انتہائی کمی ہے۔
ہوٹل : سما ہنی شہر میں ہوٹل موجود ہیں اس کے علاوہ باقی جگہوں ٹی سٹال موجود ہیں۔
ریسٹ ہاؤسسز : سما ہنی میں دو ریسٹ ہاؤسسز موجود ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں