961

سیاحوں کی جنت ……….وادی امن ومحبت…….. سماہنی

قدرتی مناظر سے بھرپور، سیاحو ں کی جنت،وادی امن ومحبت….وادی سماہنی
تعارف: ضلع بھمبر کی تحصیل سماہنی جوبھمبر سے 28کلومیٹر،میرپورسے 63کلومیٹر اور گجرات سے سے 67کلومیٹر کی دوری پرہے۔ وادی سماہنی 35کلومیٹر لمبی اور 8کلومیٹر چوڑی ہے جوکہاولیاں سے شروع ہوکر بہملہ پرجاکرختم ہوتی ہے۔ تحصیل سماہنی پانچ یونین کونسلز پر مشتمل ہے۔ اس کاتحصیل ہیڈکوارٹر سماہنی ہے۔
آبادی: 1998؁ء کی مردم شماری کے مطابق تحصیل کی آبادی 94,335 نفوس پرمشتمل ہے،2007 کے اعدادوشمار کے مطابق تحصیل کی آبادی 1,17000ہے جبکہ 2016؁ء کے الیکشن میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 77,000تھی جس سے یہ گمان کیاجاسکتاہے کہ وادی کی کل آبادی تقریباً ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ یوں تحصیل سماہنی ضلع بھمبر کی 33% آبادی اور آزادکشمیر کی 5% آبادی کوظاہر کرتی ہے۔
زبانیں: زیادہ تر پہاڑی بولی جاتی ہے ہاں بعض جگہوں پر پنجابی لہجے کی پہاڑی بولنے کابھی رواج ہے پوری وادی میں اردو بولی،لکھی اور سمجھی جاتی ہے۔
اقوام: وادی میں جاٹ، راجپوت، مرزا(بیگ)، شیخ، عباسی، کھوکھر،میاں،منہاس، آرائیں، مرزا، مغل،ملک اعوان، وینس، وغیرہ آبادہیں۔
شرح تعلیم: گو کہ 1947؁ء میں وادی میں صرف ایک لوئر مڈل سکول سماہنی تھا لیکن آج الحمدللہ تعلیم کی شرح 100% ہے اور آزادکشمیر کی تعلیمی مقابلے والی تحصیلوں میں سماہنی کاشمارہوتاہے۔
غذائیں: گندم، مکئی،چاول، باجرہ،مکھن،لسی، دیسی انڈے، دیسی مرغ، مکئی کے پھول، چاٹ، بریانی، قورمہ،سموسہ،چاٹ، فالودہ، چائے وغیرہ
ٖفصلیں،سبزیاں: گندم،مکئی،باجرہ،جو، گوبھی،ٹماٹر، کھیرا، مولی،پیاز،آلو، لہسن،ادرک وغیرہ
تہوار: عیدین، عیدمیلادالنبی ﷺ، شب برات، عرس باباشادی شہید، عرس پیرپہاڑ شاہ وغیرہ
پھل: آم،شاہ توت، آڑو، خوبانی،امرود،کیلا، مالٹا، لوکاٹ، لیموں،ناشپاتی وغیرہ
رہن سہن: کچھ عرصہ قبل لوگوں کارہن سہن نہایت ساد ہ تھا لیکن پیسے کی فراوانی کی وجہ سے جدید مکانات کی بہتات ہوگئی ہے ہاں ابھی تک تقریباً جائنٹ فیملی سسٹم چل رہاہے بڑے بڑ ے خاندان ایک ہی چھت تلے اپنے معاملات زندگی ہنسی خوشی چلاتے ہیں۔
شادی بیاہ: عموماً ارینج میرج کارواج ہے اکادُکالو میرج بھی گھروالوں کی مرضی سے ارینج کی طرح انجام پاتی ہے۔ زیادہ تر شادیا ں اپنی فیملی میں کی جاتی ہیں۔
کھیل: کرکٹ،والی بال، بیڈمنٹن، کبڈی، بازو گیری، ویٹ لفٹنگ (پتھر اٹھانا)
لباس: شلوار،قمیص،پینٹ شرٹ، واسکٹ، ٹوپی،بزرگ لوگ تہبند اور پگڑی وغیرہ پہنتے ہیں۔
سیاحتی مقامات: جنڈی چونترہ، قلعہ باغسر، سرائے سادہ آباد، رعل، کالچھ،تونین،سوناویلی، چاہی،سدھیڑی وغیرہ
خانقاہیں: باباشادی شہید جنڈی چونترہ، پیرپہاڑشاہ ڈب، سیدسلیمان بخاری سماہنی،پیرعبدالعزیز غازی چاہی حویلی،پیرچجوعہ، پنج پیر وغیرہ
ٹرسٹ: امب دابوٹاویلفیئر ٹرسٹ، میراں شاہ ٹرسٹ، آرفن اینڈپور ایجوکیشن سنٹر، عطیہ رزاق ٹرسٹ وغیرہ
ذریعہ معاش:زیادہ تر لوگوں کاذریعہ معاش آج بھی کھیتی باڑی اور جانور ہیں لیکن ملازم پیشہ، بیرون ملک لوگوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے بلکہ وادی کے اندر خوشحالی کاسبب ہی بیرون ملک محنت مزدوری کرنیوالے ہیں۔
ریسٹ ہاؤسز: جنڈی چونترہ، باغسر، سماہنی،چوکی اور پہلاپرائیویٹ ریسٹ ہاؤس ایشیاء گیسٹ ہاؤس چوکی
سیاسی جماعتیں:پاکستان پیپلزپارٹی،پاکستان مسلم لیگ ن، مسلم کانفرنس، جماعت اسلامی
صحت کی سہولیات: ۱ تحصیل ہیڈکوارٹر، 9بیسک ہیلتھ یونٹ، 2ڈسپنسریاں، 9فرسٹ ایڈپوسٹیں،ٹی بی،لپروسی سنٹر، لیڈی ہیلتھ ورکرز سنٹر، ای سی جی، الٹراساؤنڈ، میٹرنٹی ہوم، سڑکیں: بھمبر تاسماہنی اور سماہنی تامیرپور ڈبل روڈ تکمیل کے مراحل میں ہے دیگر یونین کونسلز کوملانے کے لیے بھی رابطہ سڑکوں کاجال موجودہے۔
پانی: وادی میں بے شمار مقامات پر قدرتی چشموں کاوافرپانی دسیتا ب ہے جو کسی بھی منرل واٹر سے اثر پذیری اور ذائقے میں کم نہیں اس کے علاوہ مغلیہ دور کی بنی ہوئی باؤلیاں بھی موجودہیں جن سے لوگ صدیوں سے پانی حاصل کرتے چلے آرہے ہیں جبکہ آج کل عموماً ہرگھر میں ایک ہینڈپمپ موجودہے جس پرموٹر لگاکرگھرکی ضرورت کاپانی حاصل کیاجاتاہے۔
تعلیمی سہولیات:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحصیل سماہنی کی یونین کونسلز کاتعارف
1۔ یونین کونسل بنڈالہ: یہ عین کنٹرول لائن پر واقع یونین کونسل ہے جونالی سے شروع ہوکربنڈالہ موڑ تک آتی ہے اسی یونین کونسل میں قلعہ باغسر، سرائے سادہ آبادبھی موجود ہیں جواپنی ایک تاریخی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس یونین کونسل کی شرح خواندگی 100% ہے صرف یہی نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم افراد کی کثیر تعداد جو مختلف عہدوں پر فائز ہے وہ اسی یونین کونسل سے تعلق رکھتی ہے۔ بنڈالہ کے ایک سپوت میجرجنرل،جبکہ دوسرے ڈائریکٹر اطلاعات کے عہدہ پر فائز ہیں۔ آزادکشمیرکی بیوروکریسی میں اس یونین کونسل کے تعلیم یافتہ افراد کابڑاکرداررہاہے۔ سابق ممبر اسمبلی راجہ مقصود احمدخان بھی اسی یونین کونسل سے تعلق رکھتے ہیں۔بنڈالہ کے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد اس الیکشن میں 9000 ہے۔ یونین کونسل بنڈالہ کے مشہور گاؤں بنڈالہ،باغسر، کہاولیاں،پنڈوڑی،سدھیڑی ہیں۔
2۔ سماہنی: تحصیل سماہنی کی دوسری یونین کونسل ہے۔ جس کے رجسٹرد ووٹرزکی تعداد سب یونین کونسلز سے زیادہ 22300/- ہے۔ یہی وادی سماہنی کاہیڈکوارٹرہے جس میں سب جج کی عدالت،بوائز،گرلزڈگری کالجز، تحصیل اور اے سی آفس،یونین کونسل آفس، زکوۃ وعشر آفس،نیشنل بینک،تحصیل ہیڈکوارٹر،پائلٹ ہائی سکول موجودہیں۔ چاہی،نہالہ،ڈب،کالچھ، سیری،ہل،رملوہ، پنڈسوہلناں، پنڈجٹاں، منانہ وغیرہ اس کے مشہور گاؤں ہیں۔
3۔ چوکی: یہ تحصیل سماہنی کی تیسری یونین کونسل ہے جس میں تحصیل کادل اورسب سے بڑاکاروباری مرکز چوکی ہے۔ یہیں تھانہ پولیس،یونائییڈبینک، حبیب بینک، کشمیر بینک،بوائز انٹرکالج،گرلز ڈگری کالج، ڈاکخانہ وغیرہ موجودہیں۔ سرسالہ،کڈیالہ، تونین،رعل، بنڈی، کھیری،پڑاٹی وغیرہ اس کے اہم اور مشہور گاؤں ہیں۔ سابق وزیرمال اور ممبر اسمبلی چوہدری علی شان سونی کاتعلق بھی اسی یونین کونسل سے ہے۔ اس یونین کونسل کے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 16200/- ہے۔
4۔ یونین کونسل پونا: وادی سماہنی کے دوسرے مغربی سرے پر یونین کونسل پوناواقع ہے۔ اس یونین کونسل کی اکثریت بیرون ملک (ولایت) آباد ہے۔ چوہدری محمدرشید مرحوم سابق وزیر وممبراسمبلی،راجہ رزاق خان سابق امیدوار اسمبلی کاتعلق بھی اسی یونین کونسل سے ہے۔ پونا، گائیاں، جنڈالہ،درہال، بڑجن،چدرون، جڑالی،بہملہ اس کے معروف گاؤں ہیں۔ اس کے رجسٹرڈ ووٹرزکی تعداد 19300/- ہے۔
5۔ یونین کونسل ڈل کھمباہ: تحصیل سماہنی کی پانچویں یونین کونسل جوعین کنٹرول لائن پر واقع ہے۔ اس کی سرحدیں ہری پور سے جاملتی ہیں۔ سوناویلی اور ڈنہ بڑوھ اس کے اہم مقامات ہیں جبکہ مشہور گاؤں کوٹلی، ڈھلی،بڑوھ،کتھیالہ،سوناویلی ہیں۔ اس کے رجسٹرڈ ووٹرزکی تعداد 9800/- ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں