161

پانچویں عالمی کانفرنس ادب اطفال کااحوال

پانچویں عالمی کانفرنس ادب اطفال منعقدہ 25 اکتوبر بروزاتوار پی سی ہوٹل لاہور (پیلس ہال)
احوال:مدثریوسف پاشا ضلع بھمبر آزادکشمیر
یوں تو ماہنامہ پھول اور اکادمی ادبیات اطفال کے صفحہ پر گذشتہ کافی عرصہ سے عالمی کانفرنس کاتذکرہ پڑھتے اور دیکھتے چلے آرہے ہیں لیکن اس دفعہ شرکت کاارادہ کرلیا۔ لیکن کرونا نے ہمارے ارادے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے منصوبوں کوخاک میں ملاڈالااور مئی میں منعقد ہونے والی کانفرنس اکتوبر تک جاپہنچی۔اکتوبر کوشام ساڑھے سات بجے شعیب بھائی کاپیغام وصول ہوا کہ کانفرنس میں اپنی شرکت یقینی بنانے کے لیے جواب دیں، ہم نے جھٹ سے جواب دے دیا کہ کہیں گستاخ نہ قرار دے دئیے جائیں۔ شعیب بھائی نے فوراً ہمارارجسٹریشن نمبر بتاتے ہوئے دعوتی خط کاانتظارکیے بغیر شریک ہونے کی اجازت کی خوشخبری شناکرگویادل میں چھپے جذبات کومہمیز دے ڈالی۔ روز ڈاکخانہ سے خط کاپوچھتے پوچھتے بالاخر ہفتہ کورخت سفر باندھا اور لاہو ر کی جانب روانہ ہوگئے۔ آزادکشمیر کے ضلع بھمبر کی تحصیل سماہنی جو تقریباً ساری عین کنٹرول لائن پر واقع ہے سے لاہور کاسفر بذریعہ گاڑی سات آٹھ گھنٹے کابنتاہے۔ لہذا ہفتہ کی شام ایک عزیز کے پاس پہنچ کردم لیا کہ صبح تازہ ہوا کھاتے پی سی ہوٹل ڈھونڈلیں گے۔ خیر رکشہ لے کر پی سی جاپہنچے۔ مین گیٹ پر سندھ سے قلمکار عبدالحی بھٹو اور اپنی تصانیف کے ساتھ کسی دوسرے کے انتظار میں کھڑے تھے۔ ان سے سلام دعاکے بعد گیٹ سے اندر داخل ہوئے پی سی بہت ہی وسیع وعریض علاقے پر مشتمل بڑافائیوسٹار ہوٹل ہے۔ ابھی نوبجنے میں تھوڑاوقت باقی تھا لہذارش کم تھا ہم گارڈز سے پوچھتے پوچھتے پیلس ہال کے دروازے تک جاپہنچے۔ پیلس ہال کے اندر جگ مگ کرتے برقی قمقے،سلیقے سے لگی کرسیاں،نہایت باوقار اور دیدہ زیب اسٹیج دیکھ کر شعیب بھائی کے ذوق کی داد دئیے بغیر نہ رہاجاسکا۔ ڈیسک پر اپنا نام اور رجسٹریشن نمبر بتاکربیگ، پھول،کارڈ،پنسل اور پیڈ وصول کرکے ایک کرسی پر بیٹھ کر ساری چیزیں سمیٹ ہی رہے تھے کہ رجسٹریشن ڈیسک کے پیچھے شعیب بھائی کھڑے نظر آئے جوپروگرام کے حوالے سے مختلف ہدایات دے رہے تھے۔ ایس او پیز کاخیال رکھتے ہوئے شعیب بھائی سے ملاقات کاشرف حاصل کیا اور بے چینی سے تقریب کے آغاز کاانتظار کرنے لگے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پہلے سیشن کاآغاز تلاوت کلام پاک سے حفیظ چودھری نے کیاجبکہ نعت رسول مقبول ﷺ معروف نعت خواں سرور حسین نقشبندی نے پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ سپاس نامہ شعیب مرزا نے پیش کیا انہوں نے ملک بھر سے آئے ادیبوں کاشکریہ اداکیا جن کی وجہ سے یہ تقریب کامیابی سے ہمکنارہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کرونا کی وجہ سے پیداہونے والی صورت حال میں ادباء کایہ فرض بنتاہے کہ وہ امید اور حوصلے سے بھرپور ادب تخلیق کریں کیونکہ قلم کی طاقت ہمیشہ تلوار سے زیادہ رہی ہے۔ ان کے بعداکادمی ادبیات کے سیکرٹری وسیم عالم تشریف لائے اور اکادمی کے مختلف منصوبہ جات کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکادمی ادیبوں /مدیران کی تربیتی ورکشاپس کاانعقادکررہی ہے۔ بلوچستان کے ادیبوں کی نمائندگی کے لیے محمدفرید کوئٹہ سے کانفرنس میں شریک ہوئے اور اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان دس ہزار سال سے پرانی تاریخ کاحامل،قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ ہے لیکن افسوس ہے کہ اس صوبہ میں بھوک اور افلاس کے سائے بہت گہرے ہیں۔ لہذا وفاق ہنگامی طور اس صوبہ کو ریلیف پیکج فراہم کرے۔ منشیات کافوری اور مکمل خاتمہ کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں اور سب سے اہم بات یہ کہ بلوچستان کے اخبارات میں بچوں کے ادبی صفحے کالازمی اجراء کیاجائے۔ تاکہ اس صوبے کے بچے بھی ادب سے استفعادہ کرسکیں۔ سیشن کے مہمان خصوسی معروف معالج ڈاکٹر عمران مرتضیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی پچاس فی صد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ہم نے بچوں کی نفسیات کے مطابق پاکستان کاواحدہسپتال فاؤنٹین ہاؤس بنایاہے جہاں چوالیس ہزار سے زائد مریض چیک کیے جاچکے ہیں۔ صدر سیشن ڈاکٹر امجد ثاقب نے صدارتی کلمات اداکرتے ہوئے کہا کہ شعیب مرزا دھن کے سچے اور پکے فرد ہیں جو کرنے کی ٹھان لیتے ہیں اسے پوراکیے بغیر چین سے نہیں بیٹھتے۔ بحیثیت انسان ہمیں ایک دوسرے کاغمگسار،ہمدرد بننا چاہیے۔ محبت کابیج بوکر ہر سو محبت کے پھول مہکتے نظر آئیں گے۔وگرنہ کانٹے بو کر گلاب کی توقع رکھنا سراسر جہالت ہے۔ امید کادیاروشن رکھیں کیونکہ مایوسی سے امید، امید سے یقین اور یقین سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دوسرے سیشن کاآغاز منظوم کلامات قرآنی سے شاہد بخاری نے کیا۔ کینیڈاسے خصوصی طور پر تشریف لائے سید امجدگیلانی نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک میں کتاب دوستی پیداکرنے کے لیے مخصوص پیریڈز رکھے گئے ہیں سکولو ں میں کتاب پڑھنے کے مقابلے ہوتے ہیں۔ ہمیں بھی کتاب دوستی کوفروغ دیناہوگا تاکہ ہماری آنے والی نسلیں کتاب دوست ہوں۔ معروف ادیبہ ڈاکٹر فضیلت بانو نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کرونا نے ہمیں سبق دیاہے کہ اپنے بچوں کووقت دیں ان سے رابطہ میں رہیں۔ ان کے مسائل جانیں انہیں حل کرنے کی کوشش کریں تاکہ وہ بے راہ روی کاشکار نہ ہوں۔ اور نہ ہی تنہائی میں ناپسندیدہ مشاغل اپنانے پرمجبور ہوں۔ پنجاب کے ادیبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے پروفیسر ریاض احمدقادری نے کہا کہ بچوں کے لیے لکھنا قابل ستائش ہے لیکن بچوں کے لیے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اس طرح کی تقریب کاانعقاد قابل رشک ہے۔ ملک بھر سے آنے والے ادیبوں کواس خاص دن کی یاد سال بھر ستاتی رہے گی۔ جنوبی پنجاب کے ادیبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے عبداللہ نظامی نے کہا کہ بچوں کے ادب کے سفیر شعیب مرز ا خراج تحسین کے حق دار ہیں کیونکہ ان کی طرف سے منعقدہ کانفرنس ادیبوں کوآکسیجن فراہم کرتی ہے اور وہ دلجعمی سے اپنا کام کرتے ہیں۔ محترمہ تسینم جعفری معروف ادیبہ نے شرکائے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادیبوں نے کرونا کے خلاف جدوجہد میں مثالی کردار اداکیاہے۔ کرونالاک ڈاؤن کے دوران آئی ٹی کے شعبہ کی ترقی نے ہمارے دکھوں اور مسائل کابہت حدتک مداواکیا۔ ایوارڈ حوصلہ افزائی کاباعث بنتے ہیں،تحریک دیتے ہیں۔ پھول کی پرانی قاریہ حالیہ اسسٹنٹ کمشنر ایف بی آر شمیم قمر نے کہا کہ پھول،نظر یہ پاکستان ٹرسٹ نے ہمیں اتنا اچھا پلیٹ فارم مہیا کیا کہ دو قومی نظریہ ہماری پہچان بن گیا ساتھ ہی ساتھ پاکستان سے محبت گو یا ہماری گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ سیشن کے مہمان خصوصی معروف شاعر امجداسلام امجد کاکہناتھا کہ آج کے بچے نئی اور ڈیجیٹل دنیا میں پیداہوئے ہیں ان کاماضی،حال اور مستقبل ہماری نسبت بہت مختلف ہے۔ لہذاان کے مزاج، رجحانات اور ضروریات کومدنظر رکھ کر ادب تخلیق کیاجائے۔ ادارے بھی بچوں کوعملی زندگی میں کامیابی کے لیے اخلاق اور ضابطے سکھائیں تاکہ کل کے مفید شہری بن سکیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کھانے کے بعد تیسرے سیشن کاآغاز ہوا۔ محترمہ ڈاکٹر فوزیہ سعید جوکہ ماہر نفسیات ہیں نے کرونا سے بچنے کے لیے حکمت عملی اپنا نے پر زور دیا اور کہا کہ سماجی فاصلے کامطلب ہر گز یہ نہیں کہ اپنوں سے منہ موڑ کرانہیں تنہا چھوڑدیاجائے بلکہ آزمائش کی اس گھڑی میں ان کاسہار ا بننے، ان کی ڈھارس بندھانے کی کاوش ایک طرف تو کرونا کی شکست تھی تو دوسری طرف متاثر ہ افراد کی حوصلہ افزائی بھی۔ کے پی کے،کی نمائندگی کرتے ہوئے پروفیسر اسحاق وردک نے کہا کہ قومی کانفرنس ادب اطفال کے تہوار کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ کرونا کی ناامیدی اور مشکل گھڑی کو ہمارے ادباء اورشعرا نے امیداور حوصلے میں بدل کرزندگی جینے کانیاڈھنگ اور سلیقہ دیاہے۔ ادب کے ذریعے قومیں پروان چڑھتی،پھلتی اور پھولتی ہیں۔ یہ کانفرنس اخوت اور محبت کی ایک ایسی نادر مثال بن گئی ہے جس کے ذریعے ہم پورے پاکستان کو ایک چھت تلے اکٹھا کرتے ہیں۔ ستر سے زائد کتابوں کے مصنف پروفیسر دلشاد کلانچوں کی صاحبزادی پروفیسر مسرت کلانچوں نے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو تشدد اور خوف کی وجہ سے منشیات کی عادت پڑتی جارہی ہے۔ انہیں اس لعنت سے بچانے اور صحت مند زندگی گزارنے کی ترغیب دلانے والا ادب تخلیق کیاجانا اشد ضروری ہے۔ آئی ٹی کے ماہر اور ابابیل انسٹی ٹیوٹ کے چیف ایگزیکٹو شوکت حسین نے معروف سکالر ڈاکٹراسرار احمد کے ایک خطبہ کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابلیس کاحضرت آدم ؑ کوسجدہ کرنے سے انکار گویا مایوسی اور ناامیدی کانقطہ آغاز تھا۔ اسی مایوسی سے حسد، بغض،نفرت، کینہ اور غصہ جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ ان کے خاتمے کے لیے قرآن سے رجوع کیاجائے کیونکہ اس میں ہربیماری کی شفاء میں موجودہے۔ لہذادینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم کو مربوط کرکے چلایاجائے تو من پسند نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ معروف مقررہ علوینہ علی خان نے کہا کہ اگر ہم ٹھان لیں تو ہر کام کرسکتے ہیں۔ہر طرف اندھیرا روشنی کونگلتاچلاجارہاہے انسانیت سسکتی،تڑپتی نظر آرہی ہے۔ آئیں امید کے چراغ جلائیں۔ شاعرہ بشریٰ باجوہ نے مختصر مگر جامع انداز میں کہا کہ بچوں سے کہیں کہ وہ اپنے ہم عمر لوگوں کے لیے لکھیں کیونکہ انہیں اپنے مسائل کابھرپوراندازہ ہے۔ ڈاکٹر فرحت عباس شاہ معروف معالج اور شاعر نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ تعلیم وتربیت کے ذریعے نسلوں کی ذہنی آبیاری کرناہے تاکہ وہ آنے والے مشکل وقت کے لیے خود کو تیارکرسکیں۔ پروفیسر اعجاز تبسم نے مختصر اور مدلل بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچہ ٹی وی دیکھ رہاہے لہذاایسے ڈرامے لکھے جائیں جن سے اسلام اور اخلاق محمدی ﷺ جھلکتاہو۔ کئی کتابوں کے مصنف شجاعت علی راہی نے کہا کہ ہماراتعلق تو پتھر کے زمانے سے ہے۔ لیکن ہماری نسلیں پھول پڑھ رہی ہیں۔ اس طرح کی کانفرنس سے رویوں اور سوچ میں مثبت تبدیلی آتی ہے،نئی فکر کی نرسری جنم لیتی ہے، نئی سوچ پرورش پاتی ہے۔ بچوں کے لیے معیاری ادب اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کے ذریعے ان کی فکری،سماجی اور اخلاقی تربیت کی جاتی ہے۔ ہم نے دنیا کو جس حالت میں پایاہے ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اس سے بہتر حالت میں چھوڑکرجائیں۔ معروف شاعر سعد اللہ شاہ نے شعیب مرزا کی اس تاریخی کاوش کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسا بڑاکام ایک ابنارمل فردہی کرسکتاہے۔ کیونکہ ایسے کاموں کے لیے ابنارمل افراد کی ضرورت ہوتی ہے جونہ تو تھکتے ہیں نہ مایوس ہوتے ہیں بلکہ ہردم،ہروقت نئے جذبے اور جوش سے نئی دنیا کی تخلیق میں مصروف کاررہتے ہیں۔ تقریب میں معمار وطن ایوارڈ،پروفیسر دلشاد کلانچوی ایوارڈ، تسنیم جعفری ایوارڈ کے علاوہ تمام شریک ادیبوں کو ادب اطفال ایوارڈ، سرٹیفکیٹ سے نوازاگیا۔ تقریب کے دورانیے میں دو دفعہ پرتکلف چائے، اور نہایت ہی مزے دار کھانے سے بھی انصاف کیاگیا۔ آخر میں ادیبوں نے مشہور افراد کے ساتھ گروپ تصاویر بنوائیں یوں یہ یادگار دن اختتام کوپہنچا اور ہم سب شعیب مرزا کو دعائیں دیتے گھروں کو روانہ ہوئے۔
٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں