474

اوکھے سوکھے ویلے کے لیے

لارڈ میکالے نے اپنی قوم سے جس طرح وفاداری نبھائی ہے وہ اپنی جگہ ایک روشن اور تابناک مثال ہے لیکن کیاستر سال قبل محکمہ تعلیم کے ارباب اختیار اس تلخ حقیقت سے واقف نہ تھے کہ لارڈ میکالے کے نظام تعلیم میں پرورش پانے والی ہماری نسل کیافکری اعتبار سے میکالے کی روحانی اولادنہیں ہوگی؟کیاانہوں نے نصاب کواپنی تاریخ وثقافت سے ہم آہنگ کرنے کی کوئی سنجیدہ،مدبرانہ کوشش کی یا………..؟ اس بحث کوکسی اور وقت پر اٹھا رکھتے ہیں۔
اساتذہ کے روشن کردار سے بھلا کون ستم گر واقف نہ ہوگا؟ صفہ کے چبوترے پر پیغمبر دوجہاں ﷺْ سے فیض یاب ہونے والے غرباء اور مساکین نے محض تئیس سال کی تربیت اور فیض کے حصول کے بعد دنیا کوجس انقلاب سے روشناس کرایا تاریخ آج بھی اس پر نازاں وفرحاں ہے۔
آزادکشمیر میں جس تعلیمی انقلاب اور میرٹ بحالی کے بلندوبانگ دعوے کیے جارہے ہیں محض زبانی جمع خرچ اور شیخی کے اس غبارے سے تحصیل سماہنی کے ایک مڈل پاس فوجی نے جس خوبصورت انداز میں ہوا نکالی ہے۔ وہ محکمہ ارباب اختیار او ر سیکرٹری کوبھی محسوس ہوتب شاید اس ڈوبتی کشتی کو کوئی کنارہ مل سکے ورنہ حالت آپ سے کب بھولی ہوئی ہے؟
کل ہی مجھے عام ڈاک سے ایک خط وصول ہواہے جس کی پیشانی یاپشت پر لکھنے والے کی کوئی نشانی نہیں نہ نام پتہ،نہ فون۔تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر لفافہ کھولاتواندر سے ایک کمپوزڈ خط برآمدہواہے آئیے پڑھتے ہیں۔
اہل محلہ سابقہ ٹیچرز آف میانہ موہڑاسرسالہ
جناب عالی!
التماس خدمت ہے کہ میں ایک فوجی ملازمت کرتاہوں (یعنی فوجی ہوں) ایسی……… سے تعلق ہے۔لیکن بہت دور رہتاہوں۔ میری بیٹی اس سے پہلے 5 کلاس پڑھ چکی ہے۔اب ایک چھوٹی بچی زیر تعلیم اسی سکول……..میں پڑھ رہی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس سے قبل جو آپ نے ٹیچریں پڑھاکرگئی ہیں……… انہوں نے سکول کابھڑاغرق کرکے گئی ہیں (یعنی سکول کابیڑاغرق کرکے گئی ہیں)
کیونکہ……. تو ہے ہی انڈر میٹرک تھی۔ اسے کچھ لفظ سیدھا پڑھا آتاہی نہیں تھا۔……. ٹیچر میٹرک اور وہ بھی ایک کتاب فیل، ریاتی پاس تھی (یعنی رعایتی پاس تھی) اسے بھی کچھ نہیں آتاتھا۔ بلکہ محلہ والے گواہ ہیں۔10 بجے دن کوآتی تھی اس سے قبل میں نے شکایت کی تھی تو راجپوت یہ سمجھتے تھے کہ ہماری مخالفت کرتے ہیں۔ اس لیے میں خاموش ہوگیا۔ ان ٹیچروں کے دور کلاس بلکل نالائق کلا س آگئے آرہی ہیں (یعنی ان اساتذہ کے دور میں نالائق کلاسیں پرموٹ ہورہی ہیں)
جب میں نے شکایت کی تھی تو مقامی کھڑپینچ نے میراراستہ بندکروادیاتھا لیکن اب ایک ٹیچر………. بھی ایسی ہے جومیٹرک ہے اسے بھی کچھ لفظ نہیں آتا۔ یہ سلیبس پڑھانا ان کے بس کی بات نہیں۔ اس لیے اسے ریٹائرڈ کردے یاتبدیل کردے۔ (یعنی یاتواسے تبدیل کردیں یاریٹائرڈ)
یہاں پر ایم اے سے کم ٹیچر نہ ہو۔تو پھر بات بن سکتی ہے اب……..،………. کی طرح…….. کی کلاس بھی کمزور رہ جائے گی۔ آگے جاکر بچیوں کے لیے مشکل ہوجائے گا۔بنیاد ہی بچوں کی کمزور ہے۔اگر سکول چلاناچاہتے ہیں تو ایم اے تعلیم یافتہ ٹیچر کوسکول لگادیں۔ ورنہ میں بھی بچی کواٹھالوں گا۔
شکریہ
لائنس نائیک……………..
16اے کے رجمنٹ لیپہ
مجھے اندازہ ہے کہ اس فوجی نے اپنی بیٹی کے مستقبل کوخراب ہوتے دیکھ کرڈی ای او، ڈی ڈی ای او،اے ای اوز اور میڈیانمائندگان کوخط بھیجا ہوگا۔ ویسے اس موقع پر مجھے ایک لطیفہ جوموقع سے بہت مناسبت رکھتاہے یادآرہاہے۔ ایک دفعہ بارشیں بہت کم ہوئیں سبزہ بالکل ختم ہوگیاکسانوں نے جوچارہ پس انداز کیاہواتھا وہ ختم ہوگیا۔بھوک پیاس کی وجہ سے تقریباً تمام جانور ہلاک ہوگئے یامالکوں نے پریشان ہوکر اونے پونے داموں بیچ ڈالے۔ اس قحط والے علاقے میں دوسرے ہرے بھرے گاؤں کاکوئی آدمی اپنے ایک عزیز کے گھر افسوس کرنے آیا۔ واپسی پر وہ میزبان بھی ہمراہ تھا کہ ان کاگزرچارے کے ایک بڑے ڈھیر (گھاڑے) کے پاس ہواتومہمان نے میزبان سے پوچھا جناب والا! آپ تو کہہ رہے کہیں کہ چارہ نہیں تھا اس لیے مال مویشی مرگئے لیکن اتنے زیادہ چارے کابھلاکیامطلب ہے؟میزبان نے نہایت معصومیت سے جواب دیا۔ دراصل یہ چارہ ہم نے اوکھے سوکھے ویلے کے لیے سنبھال کررکھاہواہے۔ ہاہاہا۔ سب مال مویشی مرگئے چارہ اوکھے سوکھے ویلے کے لیے رکھاہواہے۔ گورنمنٹ سکولز کابیڑہ غرق ہوگیا۔سکولوں میں نرسری ختم ہوگئی۔ دوسری طرف ان بادشاہوں نے انڈرمیٹرک، میٹرک،ایف اے، بی اے یاتھرڈڈویژن ملازمت پررکھے ہوئے ہیں جونوکری کوپنشن سمجھ کرکررہے ہیں۔ اور باہر ہزاروں کی تعدا میں اعلیٰ تعلیم یافتہ مردوخواتین کسی سکھے ویلے کے انتظار میں عمر یں ضائع کررہے ہیں۔ ناعاقبت اندیش اور بے بصیرت لوگوں کے ہاتھ میں ملکی باگ ڈور ہوگی تو اس سے بھی براحال ہوگا۔ اس سے بھی بہت براصاحب۔۔۔۔۔۔۔؟
ایک فوجی جوکم تعلیم یافتہ ہے لیکن تعلیم کی اہمیت سے آگاہ ہے اور حکومت آزادکشمیر آج تک میٹرک، ایف اے، بی اے پاس ہزاروں اساتذہ کومراعات دے کر ریٹائرڈ نہیں کرسکی۔ صرف اس لیے کہ حکومت کے اربوں روپوں سے دی جانے والی مفت تعلیم کی سہولت عام آدمی سے چھین لی جائے۔ سرکاری سکولز بندکردئیے جائیں یاانہیں ٹھیکے پر دے دیاجائے۔
ویسے اساتذہ خوداپنی کشتی میں سوراخ کررہے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ دوسراہی ڈوبے گا؟ میں توصاف پار ہوجاؤں گا؟ ایک ہی کشتی کے مسافر وں میں سے جو بھیکشتی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرے سب کی تباہی لازمی اور یقینی ہواکرتی ہے۔
ویسے اگر میرٹ میرٹ کے ڈھول کو پیٹنے سے ذرافرصت ملے تو ضلع بھمبر کے کلرکان اور سات ماہ سے خواتین پرائمری ٹیچرز کے معاملے کوالتواء میں ڈالنے والے سورماکی طرف بھی دیکھ لیجیے گا۔ اور اپنی ایڈہاک کمیٹی سے بھی اس تاخیر کی وجہ ضرور جاننے کی کوشش کیجیے گا کہ جس کمیٹی نے ہزاروں ایڈہاک ملازمین سے روٹی روزی چھیننے والوں کی پشتی بانی کی ہے اور آج اس وقت بڑابول رہی ہے جب محض پانچ دس اپنی پارٹی کے افراد میدان میں رہ گئے ہیں؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں