652

جنگلات…….عطیہ خداوندی

جنگلات ………. عطیہ خداوندی
زمین کے بڑے رقبے پر قدرتی طورپر اگنے والے پیڑ پودے ہمارے ماحول میں جنگل کی شکل اختیارکئے ہوئے ہیں جو انسان کی شعوری کوشش کا نتیجہ نہیں۔ سطح زمین کا تقریباً ایک تہائی حصہ جنگل پر مشتمل ہے جس کا وجود انسان زندگی کیلئے بہت ضروری ہے۔ جنگل ہمارے لئے قدرتی وسائل کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔ جنگلات کی موجودگی کسی ملک کے ماحول، معیشت، شہر ی ترقی اور وہاں رہنے والے انسانوں کو مختلف جہتوں سے توانائی فراہم کرتی ہے۔ جنگلات ماحول کی آلودگی میں کمی کرتے ہیں جبکہ درختوں پر لگے پھلوں کی تجارت ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ جنگل سے طرح طرح کی لکڑیاں حاصل ہوتی ہیں جو کہ ایندھن، مکان کی تعمیر، فرنیچر اور دیگر ضروریات کی اشیائبنانے میں استعمال ہوتی ہیں۔ صرف جنگل ہی نہیں درختوں کا شہروں میں بھی وجود ضروری ہے تاکہ وہاں موسمیاتی تغیرات کی وجہ سے ہونے والی گرمی اور ماحول کی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔ دو برس قبل کراچی میں جنگلات اور درختوں کی کمی کی وجہ سے قیامت خیز گرمی کی لہر آئی جس نے ایک ہزار سے زائد افراد کی جانیں لے لیں۔
پاکستان میں جنگلات کی دو ایسی اقسام ہیں جس کے بارے میں لوگ بہت کم معلومات رکھتے ہیں۔ ان میں سے ایک صنوبر کے جنگلات ہیں اور دوسرے نیم کے جنگلات، صنوبر کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دنیا کا سب زیادہ سست رفتاری سے بڑھنے والا درخت ہے یعنی یہ سوسال میں ایک سے تین انچ تک بڑھتا ہے۔ صنوبر کو کرہ ارض کی حیاتیاتی تاریخ کے ارتقائی سفر کا ایک قدیم اور زندہ مسافر سمجھا جاتا ہے۔ اس بنائپر انہیں زندہ فوسلز بھی کہتے ہیں۔لیکن افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ منفی انسانی سر گرمیوں اور غیر دانش مندانہ استعمال کے باعث اس منفرد نوع کے جنگل کو پہنچے والے نقصانات شدید تر ہو گئے ہیں۔جس کے سبب اس جنگل کاحیاتیاتی نظام خطرے سے دوچار ہیں۔ صنوبر کے جنگلات زمین کو ہوا کے کٹا? سے محفوظ رکھتے ہیں۔ موسم گرما اور سرما کی شدت کو کم کرنے میں اور ہوا میں نمی کے عنصر کو بھی بر قرار رکھتا ہے۔ یہ سیلابی پانی کے بہاوکو کم کرتے ہیں، جس سے قدرتی نظام کے تحت زیر زمین پانی کی ترسیل کو باضابط بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ تیمر کے جنگلات قدرتی آفات سے بچانے کیلئے قدرتی دیوار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تیمر کے جنگلات سمندری کٹاوکو روکتے ہیں اور سمند ر میں آنے والے طوفانوں اور سیلابوں سے حفاظت فراہم کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں موجود گھنے جنگلات جنہیں رین فارسٹ کہا جاتا ہے، اگلے 100سال میں مکمل طورپر ختم ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ جنگلات کی اہمیت انسانی زندگی میں بنیاد حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ماحول کو آلودگی سے بچاتی ہے اور موسم کو معتدل رکھتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہر سال لاکھوں درخت لگا کر نہ صرف اپنے جنگلات کو توسیع دی جائے بلکہ انسانی زندگیوں کو ماحولیاتی آلودگی سے بچایا جائے مگر یہاں جنگل اور جنگلی حیات کو ہم اپنے ہی ہاتھوں سے تباہ کر رہے ہیں۔ جنگلات چونکہ سیلابی پانی کی رفتار کم کرتے ہیں اور زمین کو کٹا? سے بچاتے ہیں اور زمین کی ذرخیزی کو قائم رکھتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ جب بھی جنگلات کاٹے جائیں تو خالی ہو جانے والی جگہ پر نئے درخت لگائیں تاکہ جنگلات کا رقبہ کم نہ ہونے پائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں