806

ریختہ ڈاٹ کام…………………. دنیائے اُردو کے لیے ایک عظیم تحفہ

ریختہ کے تمہی استاد نہیں ہوغالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میربھی تھا (مرزاغالب)
گفتگو ریختہ میں ہم سے نہ کر
یہ ہماری زبان ہے پیارے (میرتقی میر)
جویہ کہے کہ ریختہ کیونکر ہورشک فارسی
گفتہ غالب اک بارپڑھ کراسے سناکہ یوں (مرزاغالب)
ریختہ کواردو شعراء کرام نے اپنے لافانی تخیل اور خوبصورت اندازبیان سے رشک جہاں ہی بنادیاتھا لیکن آج جبکہ دنیا گلوبل ویلج کاروپ دھارے محض ایک کلک کے فاصلے پر چھپی بیٹھی ہے اور ہر نئی کلک میں اک نیاجہان آباد ہے۔ علم مسلمانوں کی میراث ہے اور امام الانبیاء علیہ الصلوۃٰ والسلام نے فرمایاہے کہ مومن علم کے معاملے میں سخی ہوتاہے،بخیل نہیں۔ وہ اپنے علم کو دوسروں تک پہنچانے کی سعی کرتارہتاہے اور اس کاعلم بصورت امانت جب تک محفوظ ہاتھوں میں منتقل نہیں ہوجاتا وہ بے چین اور بے قرار ہی رہتاہے۔ لیکن گذشتہ چند صدیوں کوان نبوی اقوال واحادیث کی روشنی،صحابہ کرام کے عمل کی روشنی میں پرکھاجائے تو یہ خوفناک حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ مسلمانوں کابہت سا مفید علم محض سینہ کاراز بن کرتہہ خاک چلاگیاہے۔ آج ہم جب کسی لفظ کو گوگل کرتے ہیں سینکڑوں مماثل جواب حاصل ہوتے ہیں۔ستم تو یہ ہے کہ ارد و جو دنیا کی تیسری بڑی زبان ہے اور تقریباً چھ براعظموں میں بولی،لکھی،پڑھی اور سمجھی جاتی ہے اس کادامن جدت سے بالکل خالی نظر آتاہے لیکن بھلاہوہندوستان کے معروف صنعت کار سنجیوصراف کاکہ جنہوں نے ریختہ فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ سنجیوصراف کو ارد وشاعری کاشوق اپنے والد سے وراثت میں ملا۔ صرف یہی نہیں سائٹ کے ایڈمن جواں سال شاعر،محقق او ر غالب کو منفر دانداز میں پڑھنے والے تصنیف حیدر ہیں جوریختہ کی ترویج،نیک نامی اور اسے نئی جہتیں دینے کے لیے ہروقت سرگر م عمل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہرگزرتے دن کے ساتھ ساتھ ریختہ اردو ادب کی ایک مقبول ویب سائٹ کاروپ دھارتی جارہی ہے۔ پوری دنیا میں اس سے استفعاد ہ کرنے والے افراد کی تعداد (جوکہ 154 ممالک میں ہیں) تقریباً تین لاکھ ہوگئی ہے۔ ریختہ کوماہانہ ساٹھ ہزار افراد وزٹ کرتے ہیں جن کی تعدادمیں اردو شاعری اور ادب کی مقبولیت کے باعث آئے روز اضافہ ہوتاچلاجارہاہے۔
سچ تو یہ ہے کہ نئے حالات کے تحت منظر نامہ بدل رہاہے اردو کے فروغ کے لیے جیسے ابتدائی دنوں میں اللہ تعالیٰ نے انگریزوں سے کام لیاتھا ویسے ہی فروغ اردو کے لیے غیر مسلم محبان بھی کھل کرسامنے آرہے ہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس جدید ترین دور میں اردو نئے پیرہن میں ڈھل رہی ہے ارد و کے فروغ کے لیے جوتاریخی کام ہورہے ہیں اسے ہم اردو کی نشاۃ ثانیہ کہہ سکتے ہیں۔ آپ ریختہ ڈاٹ کام پر جائیں اور اردو کی تلاش کے لیے انگلی سے محض کلک کریں چراغ کے جن کی مانند اردو کی دنیا آپ کے سامنے آجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریختہ بلاشبہ زبان اردو اور محبان اردو کے لیے کسی عظیم تحفہ اور نعمت سے کم نہیں۔
ریختہ پر شعر کے ضمن میں ا تاے ہزارو ں کی تعداد میں اشعار موجودہیں ریختہ آپ کو اردو،ہندی اور انگریزی میں اپنی چیزیں دکھاتاہے جبکہ اشعار کورومن انگلش میں ہیں جنہیں کم سے کم فہم والا استعمال کنندہ بھی پڑھ اور سمجھ سکتاہے۔ شاعر ی کے ضمن میں 4129 شعراء کی 38201 غزلیں،7111 نظمیں اور 26079 اشعار بلاشبہ انسائیکلوپیڈیا کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔ صرف اکتالیس سو سے زائد شعراء کرام کانام اور تعارف کسی بڑے تحقیقی کام سے ہرگز کم نہیں جسے ریختہ کی پرعزم ٹیم نے جوئے شیر لانے کے مترادف ممکن بنادیاہے۔
اس سے بھی قابل ذکر کام 54297 ای بکز ہیں جنہیں آپ اصل حالت میں دیکھ،پڑھ اور ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں صرف یہی نہیں ان سب کوپرنٹ کرنے کی سہولت بھی موجودہے ان کتب میں دونوں ملکوں کے ان شاعروں کاکلام بھی موجودہے جن کے کلام کی عد م دستیابی نے دونوں ملکوں میں ایک خلاء کی سی صورت پیداکررکھی تھی۔ ان کتابوں میں کلاسیکی دور کے دواوین اور کلیات کے علاوہ جدیدشاعروں اور ادیبوں کی مطبوعات شامل ہیں۔ ریختہ پر جدید دور کے شاعروں اور ادیبوں کی کتابیں اپ لوڈکرنے سے پہلے ان سے انہیں شائع کرنے والے اشاعتی اداروں سے باقاعدہ تحریری اجازت نامہ حاصل کیاجاتاہے۔ بے شمار تنقیدی کتب اور ان جیسی مطبوعات نے برسوں سے پاک وہند میں اردو دنیا میں فاصلوں کی وجہ سے موجود ایک بڑے مسئلے کو حل کرنے کااعزاز بھی ریختہ نے حاصل کرلیاہے۔
صرف یہی نہیں آپ سائٹ پر نثر بھی پڑھ سکتے ہیں۔ جبکہ 4447 ویڈیوز جن میں بہت سی نادر ونایاب ہیں ساتھ ہی 2127 آڈیوز بھی دستیاب ہیں۔ ڈکشنری،بلاگ،سپیشل ای ونٹ، کیرئیر اور ڈونیٹ کے آپشن بھی موجودہیں۔ اس کے علاوہ ریختہ فاؤنڈیشن اور آموزش بھی اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔
ایک اور قابل قدرکام ہندوستان بھر کی یونیورسٹیز میں بی اے (اختیاری اردو) اور ایم اے (اردو) کانصاب ان کی کتب سمیت موجودہے جواپنی مثال آپ اور منفر د کاوش ہے۔
غرض کہ اگر آپ اردو ادب سے شغف رکھتے ہیں اور ابھی تک آپ نے ریختہ ڈاٹ کام ملاحظہ نہیں کی تواس سے بڑی بے خبری اور بھول پنے کی بات کوئی اور نہیں ہوسکتی کیونکہ اس سائٹ کاایک دفعہ کاوزٹ آپ کو اس کاگرویدہ بنادے گا۔ وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ اس خوبصورت سائٹ کے جواں ہمت منتظمین نے اپنی تمام تر صلاحیتیں اس اہم،رسیلی اور میٹھی زبان پیش کرنے میں لگادی ہیں۔ اور اللہ رب العزت کی یہ سنت ہے کہ وہ کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا اس سائٹ کی ہر روز بڑھتی ہوئی مقبولیت اس کے دوام اور کام کامنہ بولتاثبوت ہے۔
ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ اس سائٹ نے اپنے قیام کے چند برسوں میں ہی دیکھنے والوں کوایسی لت لگادی ہے کہ جس کے ذائقے اور خوشبو میں ہرگزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہی ہوتاچلاجارہاہے اور یہ سب محبان وعاشقان اردو کے لیے بڑے فخر وانبساط کی بات ہے۔
اللہ کرے زور کلک اور زیادہ
٭٭٭٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں