475

قومی زبان…………………. حقائق کے تناظرمیں

دنیا بھر میں 21 فروری کوزبانوں کی پہچان اور ان کی اہمیت سے آگاہی کے لیے مادری زبانوں کاعالمی دن منایا جاتاہے۔ مادری زبان کسی بھی شخص کی وہ زبان ہوتی ہے جواسے ورثے میں ملتی ہے یعنی جس گھرانے اور خاندان میں وہ پیداہوتاہے اس کی زبان مادری یاماں بولی کہلاتی ہے۔
نومبر 1999؁ء کویونیسکو کی انسانی ثقافتی میراث کے تحفظ کی جنرل کانفرنس کے اعلامیہ میں 21 فروری کومادری زبان کاعالمی دن منانے کااعلان کیاگیاتھا۔ رواں سال بھی اس دن کی مناسبت سے سکولز، کالجز اور یونیورسٹیز میں زبانوں سے متعلق آگاہی دینے کے لیے سیمینارز منعقد کیے گئے۔
پاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان پنجابی ہے۔ جسے 48 فی صد افراد بولتے ہیں جبکہ 12 فی صدسندھی،10 فی صد سرائیکی،انگریزی،اردو،پشتو 8 فی صد،بلوچی 3 فی صد،ہندکو 2 فی صد اور ایک فی صد براہوی زبان کااستعمال کرتے ہیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 6912 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے 516 ناپیدہوچکی ہیں زمانے کی جدت اور سرکاری زبانوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے مادری زبانوں کی اہمیت ماندپڑرہی ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ زبانیں پاپواگنی میں بولی جاتی ہیں جہاں کل زبانوں کا12 فی صد یعنی 860 زبانیں بولی جاتی ہیں جبکہ 742 زبانوں کے ساتھ انڈونیشیا دوسرے،515 کے ساتھ نائیجریا تیسرے،425 کے ساتھ بھارت چوتھے اور 311 کے ساتھ امریکہ پانچویں نمبر پرہے۔آسٹریلیا میں 275اور چین میں 241 زبانیں بولی جاتی ہیں۔
مختلف اعدادوشمار کے مطابق دنیامیں سب سے زیادہ بولی جانے والی مادری زبان چینی ہے جسے 87کروڑ 30 لاکھ افراد بولتے ہیں جبکہ 37کروڑ ہندی،35کروڑ ہسپانوی،34کروڑ انگریزی، 20کروڑ عربی بولتے ہیں۔ پنجابی گیارویں اور اردو بولی والی زبانوں میں 19 ویں نمبر پر ہے۔
زبان کسی بھی قوم کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہوتی ہے یہ نہ صرف جذبات کے اظہار وخیال کاذریعہ ہے بلکہ اقوام کی شناخت بھی زبان سے ہی ہوتی ہے۔ پاکستان،ہندوستان،امریکہ،افریقہ، چین،روس،فرانس،جرمنی،ایران اٹلی ودیگر ممالک کی اقوام کی علیحدہ زبانیں ہیں جوکہ اقوام کے افراد کی نشاندہی کرتی ہیں۔
عالمی سطح پر زبانوں کی تعداد اور ان کے بولنے والوں کاتناسب انتہائی غیر متوازن ہے۔ صرف 75 زبانیں ایسی ہیں جن کو بولنے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہے اور صرف 8 زبانیں ایسی ہیں جن کو بولنے والے افراد کی تعداد 10 کروڑ سے زائدہے۔ جوکل آبادی کا 40 فی صدبنتاہے۔ عالمی سطح پر صرف 100 زبانوں کااستعمال تحریری شکل میں کیاجاتاہے۔ مادری زبان انسان کی شناخت،ابلاغ، تعلیم اور ترقی کابنیادی ذریعہ ہے۔ لیکن جب زبان ناپیدہوجاتی ہے تو اس کے ساتھ مختلف النوع ثقافتیں بھی دم توڑدیتی ہیں۔
ہرملک میں بسنے والے افراد کی مادری زبانیں ہوتی ہیں۔ مقامی یامادری زبانوں کوانسان کی دوسری جلد بھی کہاجاتاہے مادری زبانوں کے ہر لفظ اور جملے میں قومی روایات، تہذیب وتمدن اور روحانی تجربے پیوست ہوتے ہیں۔ اس لیے انہیں ہمارے مادری اور ثقافتی ورثے کی بقاء اور اس کے فروغ کاسب سے موثر آلہ سمجھاجاتاہے۔ چنانچہ اگر کسی قوم کومٹاناہوتواس کی زبان کو مٹادو قوم روایات، کلچر، ثقافت اور قومیت سب آپ ہی مٹ جائے گی۔
نہایت افسوس کی بات ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام،عدالتی نظام اور دفتری نظام سب کاسب انگریزی زبان میں ہے۔ ہمیں اردو زبان کے فروغ اور اسے حقیقی معنوں میں قومی زبان کادرجہ دینے کی بے حداشد ضرورت ہے۔ انٹرنیٹ پر اردو کاموادنہ ہونے کے برابرہے۔ قوم پوری شدت سے منتظرہے کہ مقابلے کے امتحانات قومی زبان میں منعقدکیے جائیں۔ابتدائی تعلیم مادری زبان میں جبکہ ثانوی اور اعلیٰ تعلیم قومی زبان میں دی جائے۔ مادری وعلاقائی زبانوں کے ادباء وشعرا ومحققین کو سرکاری سرپرستی دی جائے ان کی تخلیفات کو سرکاری سطح پر شائع کیاجائے ان کے لیے بھی سرکاری خزانے کے منہ کھولے جائیں۔ دیگر زبانوں کی کتب کوتیزی سے قومی وعلاقائی زبانوں میں ترجمہ کرکے عام کیاجائے۔ تاکہ ہماری قوم اندھیروں سے نکل کر وقت کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپناآپ منواسکے۔
یونیسکوکے مطابق 1950ء سے اب تک 230 مادری زبانیں ناپیدہوچکی ہیں۔اٹلس آف ورلڈلینگوئج ان ڈینجر 2009ء کے مطابق دنیا میں 28 پاکستانی زبانوں سمیت دنیا کی 36 فی صد (2498) زبانوں کواپنی بقاء کے لیے مختلف النوع خطرات لاحق ہیں۔ 24 فی صد (607) زبانیں غیر محفوظ جبکہ 25 فی صد (632) ناپیدی کے خطرے سے دوچارہیں۔ اس کے علاوہ 20 فی صد (562) زبانوں کے خاتمے کاشدیدخطرہ لاحق ہے۔ 21.5 فی صد((538زبانیں تشویشناک حدتک خطرات کاشکارہیں جبکہ 230 یعنی 10 فی صد زبانیں متروک ہوچکی ہیں۔ یوں دنیامیں بولی جانے والی 57 فی صد زبانوں کومحفوظ گرداناجاتاہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 3 ہزار کے لگ بھگ زبانوں کویہ خطرہ درپیش ہے کہ کہیں وہ ختم نہ ہوجائیں۔ پاکستان میں 56,62,73 کے آئینوں میں اردو کو قومی زبان قراردے دیاگیا۔ 1973ء کاآئین وہ پہلی دستاویز تھی جس نے پاکستانی مادری زبانوں کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ ان کوآئین کے تحت پنجابی، سندھی،پشتو، بلوچی،براہوی ادبی بورڈوں کی سرکاری معاونت دینے کاعمل شروع ہوا۔ کیونکہ جومادری زبان بھول جاتاہے وہ اپنی پہچان بھول جاتاہے۔ لیکن اس وقت بھی مادری زبانوں کوبطور ذریعہ تعلیم لاگو کرنے کی بصیرت موجود نہیں تھی اور نہ آج ہے۔
دنیابھر کے تعلیمی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بچوں کو ان کی قومی یامادری زبان میں تعلیم دینی چاہیے اگر یہ اصول اپنالیاجاتا تو سری لنکا کی طرح 98 فی صد سے زائد افراد پڑھے لکھے ہوتے۔
مادری اور قومی زبان کاتحفظ اسے برتنے والاہی کرسکتاہے مگر جہاں ایک مخصوص ذہنی غلام انگریز ایجنٹ مادری زبان کوپسماندہ گردانتے ہوئے لنڈے کی زبان میں بات کرنے کوترجیح دیتاہوں وہاں مادری اور قومی زبان اگر زبانوں کے درجے سے گر بھی جائیں تو کچھ حیرت کاباعث نہیں۔
آج کے اس جدید دور میں مادری زبان میں تعلیم بنیادی انسان حق سے دنیا بھر میں ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دیئے جانے کاانتظام ہے کیونکہ بچے کے ذہن میں راسخ الفاظ اس کے اور نظام تعلیم کے درمیان ایک آسان فہم اور ذود اثر تفہیم کاتعلق پیداکردیتے ہیں۔ مادری زبان میں بچے بہت جلدی نئی باتیں سیکھ جاتے ہیں۔
مادری زبان میں دی جانے والی تعلیم بچوں کی تعلیمی صحت پر خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے جس کے نتیجے میں وہ خوشی خوشی تعلیمی ادارے میں بھاگتے ہوئے آتے ہیں اور چھٹی کے بعد اگلے دن کاانتظارکرتے ہیں۔ معلمین کے لیے بھی قومی زبان میں تعلیم دینا جتنادلچسپ اور آسان ہوتاہے اس کے لیے کوئی اضافی محنت نہیں کرناپڑتی۔
انسانی معاشرہ ہمیشہ سے ارتقاء پذیر رہاہے۔ چنانچہ مادری زبان اگر ذریعہ تعلیم ہوتو انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ مادری زبان بھی ارتقاء پذیر رہی ہے۔نئے نئے محاورے متعارف ہوتے ہیں نیاادب تخلیق ہوتاہے۔
پاکستانی ماہرین لسانیات کے مطابق 74 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ سب سے زیادہ پنجابی 44.5،دوسرانمبر پشتون جوکہ 15.45،تیسرا سندھی 14.12 سرائیکی چوتھے نمبر 10.4 پانچویں نمبر پر اردوہے جو صرف 7.59 فی صد بولی جاتی ہے۔ بلوچی 3.59فی صد کے ساتھ چھٹے نمبرپر ہے۔
ہرزبان اپنے مطالب اور گرائمر رکھتی ہے ہرزبان کی ادائیگی اور لہجہ بھی مختلف ہے یہ زبانیں زیادہ تر قوموں اور خطوں کے حوالے سے پہچانی جاتی ہیں مادری زبان وہ ہوتی ہے جوورثے میں ملتی ہے۔یہ متروک تب ہوتی ہے جب والدین یہ اپنے بچوں کو نہیں سکھاتے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں