488

مسجدبابری کی ابرہہ کے ہاتھوں شہادت اور اب انصاف وعدل کاقتل

مسجد کوہمارے دین اسلام میں مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ کل تک جب زمانے بھر میں ہمار اڈنکہ بجتاتھا تو ہمار ا مرکز ومحور مسجد تھی ہمارے تمام معاملات اسی میں بیٹھ کرطے ہوتے تھے۔یہ اللہ کاگھر ہے حضور ﷺ نے مکہ سے مدینہ پہنچتے ہی سب سے پہلے مسجد قبا کی تعمیر فرمائی۔اور اسی مسجد کو اسلام کی پہلی مسجد ہونے کااعزاز حاصل ہے۔
بابری مسجد 1527؁ء میں مشہور مغل شہنشاہ ظہیر الدین بابر کے حکم سے اس کے جرنیل اور گورنر میرباقی نے بنوائی۔ یہ مسجد اترپردیش کی عظیم ترین مساجد میں سے ایک تھی۔ یہ اترپردیش کے ضلع فیض آباد کے ایک شہر اجودھیا میں واقع تھی۔ یہ بابر کے نام پر ہی بابری مسجد کے نام سے معروف ہوئی۔یہ مسلم فن تعمیر کاشاہکار تھی اور اس کی بنیاد تغلق طرز تعمیر پررکھی گئی تھی۔ بابری مسجد کے تین بڑے گنبد تھے ایک مرکزی اور دودائیں بائیں۔ اس کے ارگرددوبلند وبالادیواریں تھیں جوایک دوسرے کے متوازی تھیں اور ان کے درمیان ایک وسیع صحن تھا۔ اس صحن میں ایک کنواں بھی موجودتھا جس کاپانی بہت شیریں تھا یہ ایک کراماتی کنواں تھا جس کے بارے میں عقیدہ یہ تھا کہ اس کاپانی پینے سے بے شمار بیماریاں دور ہوتی ہیں۔
اس مسجد کاصوتی نظام بہت بہترین تھا اگر محراب کے پاس سرگوشی بھی کی جاتی تو وہ پورے مرکزی صحن اور اس کے آخری سرے پربھی واضح سنائی دیتی۔ جو 200فٹ دور تھا۔ تین بڑ ے گنبد،محرابیں اور یہ جالی دار کھڑکیاں جہاں اس کے حسن میں اضافے کاباعث تھیں۔ وہاں ایک اعلیٰ درجے کاکولنگ سسٹم بھی تشکیل دیتی تھیں اورنمازیوں کوتازہ ہواکاانمول تحفہ بھی ملتارہتاتھا۔
بابری مسجد پر تنازعات کاآغاز نواب واجد علی شاہ کے دور میں 1853 میں ہوا۔جب ایک ہندو فرقے نے یہ دعویٰ کیا کہ یہا ں پہلے رام مندر موجودتھا اور اسے گراکرمسلمانوں نے مسجد کی تعمیر کی تھی۔ 1855؁ء تک ہندواور مسلمان ایک ہی بلڈنگ میں اکٹھے عبادت کرتے تھے۔ لیکن 1857؁ء کی جنگ آزادی کے بعد ہندوؤں کی پوجاپاٹ کے لیے مسجد سے باہر ایک چبوترہ بنادیاگیا جہاں وہ اپنی پوجاپاٹ کرتے تھے۔ اس طرح انہیں مسجد میں داخلے سے روک دیاگیا۔ 1883؁ء میں اسی چبوترے پرایک مندر بنانے کی کوشش کی گئی جسے اس وقت کے ڈپٹی کمشنر نے سختی سے روک دیا۔بات یہی ختم نہیں ہوئی بلکہ 1934؁ء کے ہنگاموں کے دوران مسجد کی دیواروں اور ایک گنبد کوسخت نقصان پہنچاجسے انگریزوں نے دوبارہ تعمیرکروادیا۔
مورخہ 06دسمبر 1992 ؁ء کو ایل کے ایڈوانی،ملی منوہر جوشی اور دیگر ہندو لیڈر مسجد کی جگہ پرپہنچے ایک خبیث نوجوان دوپہر کے وقت مسجد کے گنبد پرچڑھا اور اسے گرانے لگا اس موقع پر ہندولیڈروں نے جھوٹ موٹ کااحتجاج بھی کیا لیکن
پوری پلاننگ کے ساتھ ہزاروں بلوائیوں نے تھوڑی ہی دیر میں بابری مسجد کو شہیدکرڈالا۔حالانکہ ریلی کی انتظامیہ نے انڈین سپریم کورٹ سے معاہدہ کیاہواتھاکہ وہ مسجدکوکوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ انتہاپسند اور اکھنڈبھارت کے دعویٰ دار ہندوؤں کایہ کہناتھاکہ اس جگہ پہلے رام مندر تھا جس کی جگہ پرمسلمانوں نے مسجد بنالی تھی۔ ان کایہ دعویٰ ان کے مذہب کی طرح سچ سے کوسوں دور اور جھوٹ کاپلندہ ہے۔اس المناک سانحے پر پوری دنیا میں شدید غم وغصے کااظہار کیاگیا ہندوستان میں ہندومسلم فسادات شروع ہوگئے جن کے نتیجے میں دوہزار سے زائد مسلمان شہیدہوئے۔
افسوس کے ہمارے اسلاف کی اس عظیم نشانی نے صدیوں کافروں کے گھر میں اللہ عزوجل کی کبریائی کافریضہ بطریق احسن سرانجام دیا لیکن آج سے تیئس سال پہلے ہمارے اسلاف کی نشانی،ہماری عظمت کامینار متعصب ہندوؤں کے ہاتھوں مسمار کردیاگیا۔ اب ہندو اپنے پورے وجود سے اس مقدس مسجد کی جگہ اپنے ناپاک مندر کی تعمیر کاڈراؤناخواب دیکھ رہے ہیں لیکن گذشتہ دو دہائیوں سے ان کایہ خواب محض سراب ہی ثابت ہواہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی یہ ناپاک ارادہ ان کے دل میں ہی ختم ہوجائے گا۔
ویسے کبھی ہماری نوجوان نسل کو یہ بھی بتاناچاہیے کہ جس ملک کے ہیرو،ہیروئن ان کے آئیڈیل ہیں مسلمان کے لیے ان کے دل کتنے سخت اور تنگ ہیں۔اور جواسے پسندیدہ ملک قراردلوانے کے لیے ایڑی چوٹی کازور لگارہے ہیں انہیں تو شرم کرنی چاہیے۔
میرے اسلاف کی عظیم نشانی
میرے ماضی کی تابناک نشانی
جنونی ہندوؤں نے
پل بھر میں
اپنے روحانی باپ
ابرہہ کے طریقے پر مٹاڈالی
اس سانحے پر نہ توآسمان پھٹا
نہ ہی زمین کاکلیجہ شق ہوا
ہوتابھی کیوں
خالق کافیصلہ ہے اب یہ
کہ تمہیں خود اب ازسرنو
منبرومحراب بناناپڑے گا
نیزیہ بھی ثابت کرناہوگا کہ
تم وہ امت ہو کہ جس نے
جہاں بھر کی عبادت گاہوں کو
تکریم بخشی
جہاں بھر کی انسانیت
کو وقار بخشا
اب بات یہاں سے بہت آگے بڑھ گئی ہے اور مسلمان جو بھارتی سپریم کورٹ سے انصاف وعدل کی امیدلگائے بیٹھے تھے ان کے زخموں پر مزید نمک پاشی کرتے ہوئے مسجد کی زمین پر مندر تعمیر کرنے کاحکم دے دیاہے ساتھ ہی بڑے پن کامظاہر ہ اس فرمان سے ہوتاہے کہ مسلمانوں کو پانچ ایکٹر زمین کسی اور جگہ سے دی جائے تاکہ اس جگہ وہ اپنے لیے بابری مسجد کی نشانی تعمیر کرکے اپنے غیر ت وحمیت کاجنازہ پڑھ کرسکھ کاسانس لیں۔اناللہ واناالیہ راجعون۔
صرف یہ کہاجاسکتاہے کہ حمیت نام تھا جس کاگئی تیمور کے گھر سے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں