230

کل کشمیر مشاعرہ کس نے لوٹا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

کل کشمیر مشاعرہ کس نے لوٹا؟

کشمیر میں غزل کے پانچ سے زیادہ شاعر نہیں ہیں۔ شعرا کی اکثریت نظم کو غزل کے کپڑے پہنا کر اسے غزل کہنے اور کہلوانے پر مصر ہے۔
ہم نے یہ بات کہی اور پھر اس بات پر گھمسان کی بحث ہوئی اور ثبوت کے طور پر کل کشمیر مشاعرہ برپا کرنے کا طے پایا۔
ہماری عمر نیم عزیز کا کافی حصہ مشاعرے برپا کرنے میں گزرا ہے۔ کل کشمیر مشاعرہ سخت شرائط کا متقاضی ہوتا ہے مگر دوست داری کے طفیل ہم اس مشکل سے آسان گزرتے آئے ہیں ۔
غزل والی بحث کے پانچ روز بعد ایک دن اچانک مولینا علی احسن بخاری نے ہمارے کمرہ مبارک کا دروازہ دھڑدھڑایا اور اجازت کے بنا ہی کمرے میں داخل ہو گئے۔ پرجوش اتنے تھے کہ
شراب سیخ پہ ڈالی کباب شیشے میں
کے مصداق ہیلمٹ ہمارے جوتوں پہ رکھا اور بچوں کے پیپرز ٹائلٹ میں چھوڑ دیے۔ ٹائلٹ سے باہر نکلے اور ہاتھ سوکھنے کا انتظار کیے بنا ہی ہمارا شانہ جھنجوڑا اور فرمایا
“مشاعرے والوں سے کالج کی بات ڈن ہو گئی ہے”
اور وقفہ دیے بنا خود ہی تصحیح بھی کر دی کہ کالج والوں سے مشاعرے کی بات ڈن ہو گئی ہے۔ اب لیٹ نہ کریں ۔ اٹھیں اور شاعروں کو دعوت دیں”
ہم نے دانستہ کوئی خاطر خواہ رسپانس نہ دیا تو ہمارا شانہ جھنجوڑ کر کہنے لگے ۔
” قائد! اتنی بڑی خبر لایا ہوں اور آپ ہیں کہ پروا ہی نہیں”
قائد ان کا تکیہ کلام ہے۔ احمد وقار سے نیا نیا تعارف ہوا وہ ان کے منہ سے اپنے لیے قائد کا لفظ سن کر بہت خوش ہوتے تھے ۔ انہیں کبھی کسی نے قائد نہیں کہا تھا۔ اپنے لیے یہ لفظ انہیں بہت اچھا لگتا تھا۔ بعد میں جب انہوں نے دیکھا کہ علی احسن بخاری تو عادتاً سب کو قائد کہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ کنڈکٹر اور ویٹر تک کو بھی بل کہ حجام کو بھی قائد ہی کہتے ہیں تو وہ اس بات پر ایسے برہم ہوئے کہ دونوں کی باہمی بات چیت بھی بند ہے۔
ہم نے انتظامی تبسم سے کہا کہ اچھی خبر ہے تو انہوں نے مسٹر فٹا فٹ والی جلدی مچا دی کہ شعرا کو دعوت دیں۔
ایک تو شیخ، اوپر سے بے روزگار ہونے کے ناتے ہم اپنا بیلنس خرچ کرنے کے حق میں نہیں تھے سو انہی کے فون سے کل تین کالز کی اور بتا دیا کہ پورے کشمیر کے مہمانوں کا ڈن ہو گیا ہے۔
وہ حیران تھے کہ محض تین لوگوں کو کال کرنے سے پورے کشمیر کے شعرا کیسے آ جائیں گے۔
جوابا عرض کیا کہ ضلع مظفرآباد کے سوا پورے کشمیر کے شعرا میں حفظ مراتب کی
خاص پاس داری موجود ہے۔ وہاں پر سینئرز ہی فیصلہ کرتے ہیں اور باقی اس پر طوعاً و طوعاً عمل کرتے ہیں۔ کرہاََ کی گنجائش نہیں ہوتی۔ مظفرآباد کے کسی بھی شاعر کو دعوت دینے یا نہ دینے سے ہم نے معذرت کر لی کہ بعد میں کون صفائیاں دیتا پھرے۔
یہ بیڑا انہوں نے اٹھا لیا۔

لیجیے مشاعرہ گاہ کا اہتمام شروع ہوا۔ گرین ہلز کی انتظامیہ کچھ مجبور اور کالج کے پڑوسی بچوں کی مدد سے دوپہر سے ہی مشاعرے کے انتظامات میں مصروف ہو گئی۔ قالین، بچھونے، گدیاں، جازم، پردے، چادریں، تکیے۔ جھالریں، پشتانیے۔ مسلسل حرکت میں تھے ۔ منیجنگ ڈائرکٹر صاحبان نہایت انہماک سے مصروف نظر آنے کی کوشش کر رہے تھے۔
فرشی نشست والے مشاعرے کی ترتیب سے نسل نو ناواقف ہوتی جا رہی تھی لہذا فرشی نشست کا اہتمام کیا گیا تھا۔
دن ڈھلے مہمانوں کی آمد شروع ہوئی۔ کشمیر بھر کے معتبر ترین سخن باف مختلف ٹکڑیوں کی صورت میں برکت بن کر مظفرآباد میں داخل ہونا شروع ہوئے۔ ہم تمام مہمانوں کا استقبال شہر کی سرحد پر کرنے کا طے کر چکے تھے مگر جناب اقبال اختر نعیمی ہمیں اردل میں لگا کر فرض کفایہ نبھانے اور ثواب غیر کفایہ سمیٹنے ایک بزرگ اور مبینہ روحانی شخصیت کے جنازہ میں اپنا ڈرائیور بنا کر لے گئے۔ موت کے پروگرام دنیاوی پروگراموں کے مغائر چلتے ہیں۔
اس روایت شکن تاریخ ساز مشاعرہ میں خاص بات یہ تھی کہ کھانے کا۔۔۔
اہتمام مشاعرے سے پہلے کیا گیا تاکہ کھانے کی انتظار میں بیٹھنے والے مجبور سامعین سے پاک مشاعرہ چالو کیا جائے۔ جو سنے جم کر سنے۔ کھانے کا نہایت معقول اہتمام تھا۔ ایم ڈی صاحبان ہمراہ پرنسپل مہمانوں کی تواضع میں خود کھڑے سرو کرتے رہے۔ دو ادوار میں کھانے کا مرحلہ بخوبی طے ہوا۔
قبلہ پیر بے طریقتی ذوالفقار حیدر نقوی نے ہمارے اصرار کے باوجود اپنے گروہ کے ہمراہ کھانے میں شرکت سے پرہیز کرتے ہوئے عذر پیش کیا کہ وہ باہر سے کھا کر مشاعرہ سننے آئے ہیں۔ اور جب ہم مہمانوں کی تواضع میں مصروف ہوئے تو وہ آنکھ بچا کر کھانا کھانے ہوٹل پر چلے گئے۔ ان کی دانست میں کسی کو خبر نہیں تھی۔
کیا آپ کی نگاہ سے میں آشنا نہیں
مشاعرہ شروع ہوا۔ حق نواز مغل اور خاور نذیر نے نقابت کے بہانے اپنی اپنی تشریف ان کام دار گدیوں پر ٹکا دی جو مہمان خانوں کی دیوار پر آرائش کے طور پر آویزاں کی جاتی ہیں۔
گدیاں بالکل غیر مسطح تھیں اور سلام ہے نقیب حضرات کے حوصلے اور تشریف کو جو اگلے پانچ گھنٹے ان قطعی ناہموار گدیوں پر جم کر بیٹھے رہے ۔ یہ خدشہ دونوں کے دماغ میں جاگزیں تھا کہ گدیاں صرف دو تھیں اور بینر پر اسلم رضا کا نام بھی نقیبوں میں لکھا گیا تھا۔ لہذا جو بھی گدی سے ہلا تو۔۔گیا
بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو
جو ترے آستاں سے اٹھتا ہے
شعر سنانے کو چڑھ چڑھ دوڑنے والے تلاوت کرنے کی درخواست سے بدک کر پیچھے ہٹ رہے تھے۔ داڑھی اور مدرساتی تعلیم آڑے آ گئیں اور عامر شہزاد ہاشمی کو تلاوت پر مجبور کیا گیا۔ انہوں نے ناک بھوں چڑھائی تو ہم نے للچاوا دیا کہ اس طرح ان کے پاس سٹیج پر دو بار جانے کا امتیازی موقع ہو گا۔اور وہ مان گئے۔ پھر بھی انہوں اشارتاً علی احسن بخاری کی جانب اشارہ کیا کہ ان کی داڑھی تو اور بھی لمبی ہے مگر علی احسن بخاری انتظامات میں مصروفیت کے بہانے تلاوت سے بچنے کے لیے وہاں سے سٹک گئے۔
مظفرآباد کی ادبی مجالس کے باذوق ترین سامع خیر الزمان راشد کی کمی کو سخت محسوس کیا گیا۔ قبلہ ذوالفقار حیدر نقوی ہمراہ انوار القمر ایڈووکیٹ اور فیض علی بخاری اہتماما شاعروں سے دور اور لاوڈ سپیکر کے قریب بیٹھے۔ انہیں آگے بٹھانے کی ہماری ہر کوشش بےکار گئی۔
عامر شہزاد ہاشمی نے تلاوت کی۔ ہال میں سکوت ہو گیا۔ اس سکوت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے علی احسن بخاری نے ایک خوش گلو طالب علم سے جبرا اپنی نعت پڑھوائی۔ اچھے کلام کو اچھی آواز نے اور بھی تیکھا رنگ بخشا۔ کلام خوب سراہا گیا۔ نعت کے بعد نقیبوں نے مشاعرے کا موڈ اپنے شعروں سے اگلے گئیر میں ڈال دیا۔ واہ واہ مچنے لگی۔ سب سے پہلے میزبان کالج کے دو طالب علموں نے کلام سنایا۔
مظفرآباد کی تاریخ کا پہلا مشاعرہ تھا جس میں صدارتیں کرنے والوں کو بھی تیسرے چوتھے نمبر پر آنا پڑ رہا تھا کہ ہر ضلع کے سینئر ترین شعرا ہی مدعو تھے۔ طاہر قیوم مغل پہلے مہمان شاعر تھے ۔پھر سید قاسم سیلانی آئے۔ ان کے بعد عامر شہزاد ہاشمی نے شعروں کو قرات کے انداز میں پیش کرتے ہوئے رنگ باندھا۔ ان کے پیچھے ارشد شیزی نے متنوع رنگ کا چٹخارے دار شعری اچار پیش کیا۔ میزبان شاعرہونے کے باوجود انہوں نے مہمانوں جتنا وقت لیا اور داد سمیٹی۔ ان کے بعد یاسر عباس آئے۔ علی احسن بخاری نے میزبانانہ کلمات کی آڑ میں کلام بھی سنایا۔ بچوں نے کالج کا نمائندہ شاعر ہونے کے ناتے بھی خوب داد برسائی ۔ دیگر سامعین نے کلام پر تحسین کی۔ پھر رفیق پروانہ نے رنگ تغزل بکھیرا۔ اسلم رضا نے مزاحمتی اور مذمتی سماں طاری کیا۔ پھر دیگر ضلعوں کے مہمانوں کی طرف بات بڑھ گئی۔ نیلم کے نمائندہ اقبال اختر نعیمی نے سنجیدہ کلام سنایا تو مزاحیہ کی فرمائش ہوئی اور مزاحیہ نے مشاعرے کو اگلے گئیر میں پہنچا دیا۔ حویلی کے نمائندہ شاعر سلمان مانی نے شگفتہ آہنگ سے لفظ کاری کی شگفتہ پھوار برسائی۔ حر کاشمیری نے کربلائی اور کشمیری رنگوں کو بلند آہنگ اور جذباتی لہجے کی آمیزش سے پیش کیا تو سامعین کے جذبات بھی دیدنی ہو گئے۔ فرزانہ فرح نے اپنی نشست سے ہی بہار سخن بکھیری۔ ناسازی طبیعت کے باوجود شرکت کلام خوانی اور پورے پانچ گھنٹے جم کر بیٹھنا ان کا خاص احسان ہے۔ حر کاشمیری نے سامعین کے رجزیہ و رزمیہ جذبات کو حدوں تک پہنچایا تھا تو ضیا الرحمن ضیا نے مجلس کو کشت زعفران بنا دیا۔ قہقہوں پر قہقہے پھوٹنے لگے۔
نیلم کے بعد کشمیر کے دوسرے سرے سماہنی بھمبر سے شہباز حبیب نے کلام سنایا۔ ان کے بعد پلندری سے تشریف لائے عثمان لیاقت نے دھیمی آنچ پر پختہ غزلیں پیش کی۔ پھر بھمبر سے ڈاکٹر نعمان خلیل نے اس عجلت میں کلام سنایا کہ پیچھے کہیں ان کے مریض فیس دیے بنا ہی بھاگے جا رہے ہوں۔ ان کے بعد پلندری سے تشریف لانے والے مہمان خصوصی آصف اسحاق آئے مگر داد لینے میں ناکام رہے۔ جتنی تحسین انہوں نے سمیٹی اس کے لیے داد کا لفظ بہت پیچھے رہ جاتا ہے ۔ درد کشمیر اور برادر اسلامی ملک کی منافقت کو جس رنگ سے انہوں نے پرویا اور برتا تھا اس پر مجمع کے سنجیدہ ترین سامعین بھی جگہ سے کھڑے ہونے پر مجبور ہو گئے۔ ان کے بعد باری آئی بھمبر سے ڈاکٹر خورشید حسن پاشا کی۔ دو روز مسلسل سفر کی تکان ان کے لہجے سے بھی عیاں تھی۔ ایک نظم ایک غزل اور ایک قطعے کے بعد چلتے بنے۔ قطعے پر عمدہ شعروں کی نسبت دوگنی داد سمیٹی کیونکہ دیگر اشعار پڑھنے میں انہوں نے فیض کا تتبع کیا تھا۔ ان کے بعد کشمیر کے تیسرے دور دراز کونے سے تشریف لانے والے حسیب جمال نے کلام پیش کیا۔ ان کے ہاں تصوف ہی تصوف۔ عشق مجازی کو بھی حقیقی کا رنگ دینا انہی کا کمال اور جمال ہے۔
سخت مصروفیت میں ہمیں یاد آیا کہ ہمیں بھی کچھ پڑھ سنا کر رسم پوری کر لینی چاہیے۔ مسلسل حرکت میں رہنے کے سبب دو تین احباب نے پوچھا بھی کہ ہم سے نچلا کیوں نہیں بیٹھا جاتا تو جواباً عرض کیا کہ ہماری اٹھک بیٹھک ہی مشاعرے کو باوقار رکھنے کی ضامن ہے۔
حاضرین میں سے جوان سامعین کے لیے ہم نے دو مزاحیہ قطعات سنائے اور سنجیدہ سامعین کے لیے سنجیدہ نظم پیش کی جسے سب نے تلاوت کی طرح مکمل خاموشی سے سنا البتہ مکمل ہونے پر نمناک آنکھیں اور تالیاں ہماری نظم کا بھرم رکھنے کو کافی تھیں۔
باری پھر جا چڑھی سٹیج والے مہمانوں کی جانب۔ سب سے پہلے مدعو کیا گیا بیٹھک سے تشریف لانے والے دلکش اداؤں کے مالک صداقت طاہر کو۔
فطری شاعر ہیں۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف شیرخواری چھوڑتے ہی شعر کہنا شروع کر دیا تھا۔
بچپن میں ہی انہیں ایسا لگتا تھا کہ ان کے ساتھ یا کمی کی جاتی ہے یا زیادتی۔ چار سال کی عمر میں ناشتے پر اپنے ہی سگے بھائی کے حوالے سے پہلا مزاحمتی و مذمتی شعر کہا۔

مرے پراٹھے پہ تھوڑا گھی ہے،ترے پہ زیادہ لگا ہوا ہے
میں یہ شکایت کروں گا ماں سے، مرا ارادہ بنا ہوا ہے۔

پھر بڑے ہو گئے۔ ہمارے سخن قبیلے کا اہم ستون بن گئے۔ بہت سی ڈگریاں بھی لے لی۔ کہیں عزت ملی تو وہ بھی لے لی۔ چھوٹے موٹے مشاعروں کی صدارتیں بھی لے لی۔ بال جھڑے تو کسی پارسی شاعر کے زیر استعمال رہنے والی وگ بھی لے لی۔ مگر وسائل کی غیر مساوی تقسیم کے خلاف مزاحمت کے تیور اور طنطنہ وہی رہا بل کہ بڑھ گیا۔ گھر میں پراٹھے گھی اور ٹافیوں پر اعتراض سے بات بڑھ گئی۔ زمین و آسمان کے غیر مساوی سائز کے حوالے سے براہ راست اللہ میاں کی ذات پر بھی شعری حملے شروع کر دیے۔ روز روز ایک نیا تقاضا اور تنازع کھڑا کرنے لگ گئے۔۔ اس اعتراض بازی کو اپنے جذبہ حریت پر محمول کرتے تھے۔ اور اسی ادا پر دوستوں کے درمیان وجہ دوستی تھے۔محبت کا پیکر۔ وہی محبت جس کا دریا ڈاکٹر ماجد محمود کے دل میں صنف مخالف کے ہر اس رشتے کے لیے موج زن ہے جو محرم کے درجے میں نہ آتا ہو۔رب سے کچھ تقاضے کھڑے کرتے ہوئے انہوں نے سخن کے وہ دلنشین رنگ بکھیرے کہ اہل مجلس شدید مخمصے کا شکار ہو گئے ۔ ان کی سمجھ میں نہیں. آ رہا تھا کہ شاعر کے کلام کی دلکشی پر داد پاشی کریں یا شاعر کی نہایت ہی جاذب نظر وگ کو سراہتے جائیں۔ گھوڑے کی دم جیسے مضبوط اور گورے رنگ کے مصنوعی بالوں سے بنی وگ ہونہار شاعر نے اتنے سلیقے سے جمائی ہوئی تھی کہ شائقین کی اکثریت اصلی بال سمجھ رہی تھی۔
دو سال پہلے بدقسمتی سے صداقت طاہر ایک ناگفتہ بہ جلدی مرض کا شکار ہوئے تھے۔ ایک ہفتہ مسلسل بخار رہا جس کے نتیجے میں ان کے سر کے سارے بال جھڑ گئے اور باقی بدن پر دوگنا بال اگ آئے۔ بہت سے لوشن لگانے پر بھی سر کے بال دوبارہ نہ اگے تو انہوں نے سیکنڈ ہینڈ امپورٹڈ مال کی دکانوں سے یہ وگ نہایت سستے داموں خرید لی۔ لنڈا فروش اس کے دام پندرہ ہزار بتا رہا تھا مگر انہوں نے بھاؤ تاؤ کر کے محض نو ہزار میں خرید لی تھی۔ ہمارے یار کی شرکت ہی مشاعرے کی اٹھان کی ضمانت ہوتی ہے۔صداقت طاہر تحت اللفظ سنا کر داد سمیٹ کر کھسکنے لگے تو فرمائش کر کے واپس بلا لیا گیا۔انہوں نے ترنم سے سنانا شروع کیا تو پورا مجمع ان کے ساتھ گنگنانے لگ گیا۔ یہ قبولیت اور مقبولیت کی حد تھی۔
ہر ایک نے ان کی توصیف کی سوائے نقیب محفل کے جنہوں نے آنے والے شاعر شوزیب کاشر کی تعریف کی نیت سے صداقت طاہر کی آواز کو کم تر قرار دیا۔ بعد میں اس کا ازالہ کرنے کے لیے جب تک شوزیب کاشر کلام خوانی کرتے رہے تب تک حق نواز مغل صداقت طاہر کو منانے کے لیے عذر خواہانہ شور کرتے رہے جس سے شوزیب کاشر کی شعر خوانی میں خلل واقع ہوا ۔
یعنی شوزیب کاشر کو دام میں اتارنے کے لیے صداقت طاہر کو ناراض کیا اور بعد میں صداقت طاہر کو منانے کے لیے شوزیب کاشر کی کلام خوانی کے دوران میں شور کر کے انہیں بھی ناراض کیا۔
خود کو ہوشیار سمجھنے والی ایک بہو نے کپڑے تبدیلی کے دوران نے اچانک ہونے والی دستک پر لپک کر دروازہ کھولا تو خلاف توقع سسر کو کھڑے پایا۔ شرم کی ماری کے منہ سے اتنا ہی نکلا
“ہائی ۔۔ابا جی تسی ہو”
اور اس نے لجاتے ہوئے قمیض کا اگلا سرا اٹھا کر آنکھوں پر رکھ لیا۔
خیر ہمیں کیا۔ شوزیب کاشر آئے۔تحت اللفظ سے نیم ترنم کی جانب بڑھے۔ کشمیر پر بے مثل کلام سنایا۔۔ داد کے ڈونگرے سمیٹے ۔۔جانے لگے تو واپس بلا لیا گیا۔۔پھر سے سنا گیا۔ سنا کے جانا چاہا تو تیسری مرتبہ بھی بلا لیا گیا۔ ۔۔سولہ منٹ تک مسلسل داد سمیٹ کر رخصت ہوئے۔ کلام پر الگ داد۔ انداز پر الگ داد اور آواز پر الگ داد۔
ان کے بعد ضلع ہٹیاں سے مہمان خصوصی اعجاز نعمانی آئے اور مجلس کے رنگ کو دیکھتے ہوئے دلکش غزل کے ساتھ کشمیر پر نہایت عمدہ شاعری سنائی۔ تالیاں ہی تالیاں۔ داد ہی داد۔۔ بار بار وقفے۔
ان کے بعد پونچھ سے مہمان خصوصی کے طور پر تشریف لانے والے سینئر شاعر لیاقت شعلان جلوہ گر ہوئے اور ایسے جلوہ گر ہوئے کہ سب جھوم اٹھے۔ اس دوران تمام شرکا کو قہوہ پیش کیا گیا اور مہمان شعرا کی سونف سپاری سے بھی تواضع کی گئی۔ خاور نذیر جو دن کو بھی کھانا نہیں کھا سکے تھے۔۔ اور رات کے کھانے کے وقت بھی لکھی ہوئی کمپئرنگ کو رٹا مارتے رہے اور جب کھانے کا ہوش آیا تو کھانا ہی ختم ہو چکا تھا اور مشاعرہ شروع۔ تو انہوں نے اپنی پلیٹ کے علاوہ آس پاس کے مہمان شعرا کی سونف اور نمکو والی پلیٹوں کا بوجھ بھی ہلکا کرنا شروع کر دیا اور یہ شغل اس وقت تک جاری رکھا جب تک ان کے کوٹ کا زیریں بٹن ایک تڑاکے سے ٹوٹ نہ گیا۔ اگلی صفوں کے سامعین کے ننگے پیروں یا اَن دھلی جرابوں میں ٹٹولتے ہاتھ پھیر پھر کر نہایت مشکل سے انہیں کوٹ کا بٹن پھر سے مل گیا جسے انہوں نے حفاظت کی غرض سے منہ میں ڈال کر ٹافی کی طرح چوسنا شروع کر دیا۔ واپس ناہموار گدی پر بیٹھنے کے بعد انہوں نے کسی شاعر کی سونف سپاری والی پلیٹ کی طرف ہاتھ بڑھانا تو درکنار آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔
شوزیب کاشر نے ایک مرتبہ اپنی پلیٹ خاور نذیر کے آگے رکھی بھی مگر انہوں نے شکریہ ادا کیے بغیر ہی ہاتھ کے اشارے سے واپس بھی کر دی۔
منہ سے شکریہ اس لیے ادا نہ کر سکے کہ سامعین کے اَن دھلے پاؤں سے ڈھونڈا ہوا اپنا بٹن منہ میں پپول رہے تھے۔
شاعر کو بلاتے وقت بٹن منہ سے نکال کر مٹھی میں رکھتے اور شاعر کے مائیک تک پہنچتے ہی بٹن واپس منہ میں رکھ لیتے کہ کہیں گم ہی نہ ہو جائے۔
خیر لیاقت شعلان کے بعد باری تھی محفل مشاعرہ کے پہلے صاحب شام ڈاکٹر ماجد محمود ماجد کی۔ ان کا شاگرد اور بھی بہت سوں کے حصے کی داد سمیٹ کر جا چکا تھا مگر استاد نے استادی ثابت کی۔ ہوس والے اشعار تو ان سے تین تین چار چار بار سنانے کی فرمائش کی گئی۔ واضح لگتا تھا کہ انہوں نے ایسے اشعار پر خون جگر صرف کر کے ہلکا شہوی بگھار دیا تھا جس سے کلام اور پیغام کی تاثیر چہار آتشہ ہو گئی تھی۔ فرمائش کر کر کے سنا گیا۔ ہوس والے اشعار تو چار چار مرتبہ سنے گئے۔
تالیوں کے شور میں وہ رخصت ہوئے تو پھر باری تھی حرف و حریت کے امین اور دوسرے صاحب شام فارق صابر کی۔
وہ مائیک پر آئے ۔۔بدقسمت وادی کے ایک ایک زخم کو کھول کھول کر پیش کیا۔ اپنوں پرایوں کے بخشے ایک ایک درد کو بے مثل منظر کشی کے ساتھ سامعین کے سامنے پیش کیا۔۔ ان کی آواز کا سوز واہ کا تقاضا کرتا تھا تو کلام کا درد آہ کا تقاضا کرتا تھا۔ وہ سناتے رہے۔۔مجمع گیلی سانسوں اکھڑی واہ اور آہ کے ساتھ انہیں سنتا رہا۔
مٹی کے لیے عملی جدوجہد کا استعارہ ،لاجواب استعارہ ہونے کے ناتے ان کی آواز کا سوز سیدھا دلوں پر جا کر پڑ رہا تھا۔
سب سے آخر پر باری تھی کشمیر ہی نہیں سارے اردوستان کے سخن قبیلے کے ناز اور میر مجلس ناز مظفرآبادی کی۔
میر مجلس نے پہلے تو شاندار مشاعرے کے انعقاد پر کالج انتظامیہ کو مبارک باد دی اور اس کو مظفرآباد کا حقیقی معنوں میں پہلا کل کشمیر مشاعرہ قرار دیا۔
پھر اس کے بعد نوبہاریہ مشاعرے میں سخن کی وہ مہک بکھیری کہ میر مجلس ہونے کا حق ادا کر دیا۔ رنگ تغزل کی افشاں بھی چھڑکی مگر فرمائش پر زیادہ تر کلام کشمیر پر سنایا۔ بار بار فرمائش ہوتی رہی یہاں تک کہ ان کو آب نوشی کی ٹھیکی بھی لینی پڑی۔۔داد و تحسین کے ڈونگرے۔۔اور لیجیے مشاعرہ مکمل ہوا۔ بھرپور مشاعرہ۔۔اور سامعین نے گھڑیوں کی طرف دیکھا تو رات کے سوا دو بج رہے تھے۔
بھر پور اور دم دار مشاعرہ ۔۔ایسا دم دار کہ خالی قالین پر لوگ بیٹھے مسلسل پانچ گھنٹے سے بھی زیادہ دیر تک سنتے رہے۔ کالج کی نمائندگی کرتے ہوئے ایم ڈی راجاادیب نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اختتامی کلمات کہے۔
شعراء کا گلدستہ بھی کشمیر بھر کے باکمالوں پر مشتمل تھا تو سامعین کی کہکشاں بھی باذوق ستاروں پر مشتمل تھی۔ ذوالفقار حیدر نقوی، راجا عبدالکریم، شوکت جاوید ، افتخار بٹ، انوار القمر عدیل، مہتاب عالم ، اشتیاق بخاری ،فیض علی بخاری، تیمور خو رشید ، جمشید شرارتی، پیزادہ فضل الرحمان اور طاہر آکاش سامعین میں موجود تھے۔
گرین ہلز کالج معاون نصابی سرگرمیوں کے حوالے سے مظفرآباد بھر میں معروف تو تھا ہی مگر اس شان دار تاریخی پروگرام کے توسط سے کشمیر بھر میں اس کا شہرہ ہو گیا ۔ تمام ضلعوں کے نمائندہ ترین شعرا بالخصوص جن کا مظفرآباد میں پہلا مشاعرہ تھا ،وہ مظفرآباد کے بعد جس دوسرے نام کو جانتے ہیں وہ گرین ہلز کالج ہے۔ اس شاندار پروگرام کے انعقاد پر گرین ہلز کی انتظامیہ اور معاون طلبہ بالعموم اور دونوں مینیجنگ ڈائریکٹر صاحبان بالخصوص لیاقت علی خان اور راجا ادیب مبارک باد کے مستحق ہیں۔
ایک عام سا مشاعرہ کرنے میں ایک سیاسی جلسہ کرنے سے بڑی کھکھیڑ ہوتی ہے۔ سیاست دانوں کی ناک چھوٹی اور موم کی ہوتی ہے جب کہ شعرا کی ناک بڑی اور لوہے کی ہوتی ہے۔
یارستان کے بے لوث رشتے میں پروئے شعرا تو دوسرے کی لاج رکھنے ایک کال پر اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ اس فورم سے ہٹ کر کشمیر میں شعرا کو اکٹھا کرنا ایسا ہی ہے جیسے دریا کے دو کنارے ملانے کی کوشش کرنا۔
اور شعرا حضرات کے بینر پر نام کی حسن ترتیب سے لیکر تقدیم و تاخیر کے گنجلک مسئلے سے نمٹنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اور جو شخص اس مہم کا اکثر حصہ تن تنہا نہ صرف نمٹاتا رہا بل کہ اس نے ہمیں چائے پلا کر مجبور بھی کیا کہ اس کے جائز کنٹری بیوشن کا مناسب ذکر ہر حال میں روداد کا حصہ بنایا جائے تو اس کا نام علی احسن بخاری ہے۔ کبھی بینر کے لیے دوڑ لگی ہے تو کبھی سونف سپاری بروقت نہ پہنچانے پر بچوں کی سرزنش کر رہے ہیں، کبھی شعرا کو کال کر کے کنفرم کروانے کے لیے اپنا فون پیش کر رہے ہیں تو کبھی جلدی میں شعر بگاڑ کر شعرا کے نام کی انفرادی ویلکم پوسٹس تیار کر رہے ہیں۔ کبھی مشاعرے کی خاطر لیے گئے نئے کھسوں کو چمکا رہے ہیں تو کبھی بلاوجہ دوڑ دوڑ کر خود کو مصروف ظاہر کر رہے ہیں۔
اس تقریب کے انعقاد میں ان کا حصہ نمایاں ہے۔ اس مشاعرے کو برپا کرنے کی خاطر مقامی شعرا میں جن حضرات کا بھرپور تعاون ہمیں حاصل رہا ان میں ناز مظفرآبادی ،اعجاز نعمانی اور حر کاشمیری کا نام سر فہرست ہے۔
اور یہ خبر بھی کہ اگلے دو ماہ میں مظفرآباد اور نواح میں نو مشاعرے زیر ترتیب ہیں۔
البتہ یہ مشاعرہ گرین ہلز کالج سمیت تمام مہمانوں نے باہمی تال میل کی مدد سےیک ساں بے دردی سے لوٹا.
تحریروترتیب:عبدالبصیر تاجور منتظم مشاعرہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں