655

قلعہ باغسر سماہنی کاتاریخی ورثہ

تاریخ کے جھروکوں سے۔۔۔۔۔۔۔قلعہ باغسر”
(کتنی حقیقت، کتنا فسانہ)
تحریر: مدثر یوسف پاشا
وہ تاریخی آثار جن کے بارے میں واضح اور مصدقہ ریکارڈ موجود ہو۔ ان کے تعمیر کنندہ اور سن تعمیر تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں لیکن کچھ عمارتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان پر کوئی ایسا نشان نہیں ہوتا جو یہ ظاہر کرتا ہو کہ وہ کب، کس نے تعمیر کیں۔ آخر ان کے بارے میں درست معلومات کا ذریعہ کونسا ہے؟ ایسی حالت میں ان کی طرز تعمیر اور غیر جانبدار مصنفین کی تحریریں ہی ایسا ثبوت ہیں جن پر ہم بھروسہ کر سکتے ہیں۔ ایسی ہی ایک تاریخی عمارت واسی سماہنی کے مشرق میں قلعہ باغسر کی ہے جسکی تعمیر کے بارے میں لوگوں کو درست معلومات نہیں ہیں۔ قلعہ کی تعمیر کب ہوئی؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ قلعے حکمرانوں نے ایسی جگہوں پر تعمیر کروا رکھے تھے جو گزر گاہیں تھیں انکی حفاظت کیلیے قلعے تعمیر کروائے جاتے رہے۔ ریاست جموں و کشمیر اور برصغیر پاک و ہند کے درمیان جو گزر گاہیں ان کی حفاظت کیلیے جو قلعے تعمیر کیے گئے وہ زیادہ تر مغل دور میں تعمیر نہیں ہوئے کیونکہ مغل سلطنت کابل، قندھار سے سندھ، مکران کے ساحلوں اور بنگال دکن جیسے دور دراز علاقوں میں پھیلی ہوئی تھی۔
اسوقت جو قلعے تعمیر ہوئے ان میں اٹک، رہتاس، لاہور، دھلی اور اس طرح کے کئی ایک قلعے مغلوں نے ان گزر گاہوں پر تعمیر کیے جن کے ذریعے دہلی پہنچا جا سکتا تھا۔ مغلوں کو کشمیر میں چھوٹے لیکن مضبوط قلعوں کی زنجیر بنانے کی قطعا کوئی ضرورت نہ تھی اس لیے مغل شہنشاہ اکبر نے سری نگر میں صرف ایک قلعہ تعمیر کروایا اور وہ بھی ریاست میں داخل ہونے والے راستوں میں سے کسی پر نہیں ہے۔
باغسر کے علاوہ جموں و کشمیر کے تاریخی قلعوں کا مختصر تعارف
۱۔ قلعہ منگلا (گکھڑوں نے تعمیر کروایا)
۲۔ قلعہ تقلو (ضلع میرپور میں گکھڑوں نے تعمیر کروایا)
۳۔ قلعہ تھروچی (منگراں حکمرونوں نے تعمیر کروایا)
۴۔ قلعہ کرجاہی۔قلعہ کر جاھی۔ قلعہ بھیرنڈ (وادی بناہ کے شمال۔ کہوٹہ، پنجاڑ اور سہنسہ سے مغرب میں تعمیر کروائے گئے)
۵۔ قلعہ بارل اور منگ 1834ء سے 1839ء کے درمیان ڈوگروں نے سدھن قبائل پر قابو پانے کیلیے تعمیر کروائے۔
۶۔ سرخ قلعہ مظفرآباد، دریائے نیلم کے کنارے دب گلی کی حفاظت کیلیے مقامی حکمرانوں نے تعمیر کروایا۔
۷۔ قلعہ پڈھار (ڈوگرہ عہد میں اعوان شریف کے راستہ کے دفاع کیلیے تعمیر کیا گیا)
۸۔ قلعہ باغسر (اس قلعہ کا ابتدائی نام امر گڑھ تھا)
۹۔ قلعہ باھو(دریائے توی کے کنارے مقامی حکمرانوں نے تعمیرکروایا)
۰۱۔ تریہہ گام (موضع شاہ پورہ کے نزدیک گلاب سنگھ کر تاہ کے حکمران راجا شیر احمد خان کے حملوں سے بچنے کیلیے تعمیر کروایا تھا)
قلعہ باغسر کا محل وقوع
قلعہ باغسر جس پہاڑی پر تعمیر کیا گیا تھا اس سے ایک گزر گاہ کی حفاظت نہیں بلکہ دو راستوں کی حفاظت ممکن تھی۔
نمک روڈ یا مغل روڈ
یہ شاھراہ قدیم زمانہ سے ہی زیر استعمال تھی اور اس راستے سے کشمیر میں نمک لے جا یا جاتا تھا۔ اس لیے یہ نمک روڈ کہلاتی تھی۔ 1586ء میں اکبر اعظم کے جرنیل قاسم خان نے کشمیر فتح کیا تو اس نے اس قدیم شاہراہ کو کشادہ کرنے کا حکم دیا کشادگی کے بعد اسے مغل روڈ کہا جانے لگا۔ مغل عہد میں اس شاہراہ پر باؤلیاں اور سرائیں تعمیرہوئیں جو کھنڈرات کی شکل میں آج بھی موجود ہیں۔ دوسری شاہراہ وہ تھی جو درہ کبوتر گالا سے ہو کر جاتی تھی اور نمک روڈ یا مغل روڈ کی کشادگی سے پہلے ایک مشہور تجارتی شاہراہ تھی۔ مغل رود قلعہ باغسر سے مغرب اور کبوتر گالا بالکل مشرق میں ہے۔ قلعہ باغسر سے نیچے مشرق کیطرف ایک نہایت ٹھنڈے پانی کا چشمہ موجود ہے۔ ماراجہ ربیر سنگھ نے تعمیر کروایا۔ (باؤلی پر کتبہ موجود ہے) اب یہ کتبہ کائی نے چھپا لیا ہے۔
قلعہ باغسر کی تعمیر کے بارے میں چند حقائق
کشمیر کے بارے میں جن یوریپی مورخین نے تفصیلا اپنی یاداشتیں اور سفر نامے تحریر کیے ہیں ان میں مورخ برنئیر، جیک ماؤنٹ اور مورکر افٹ قابل ذکر ہیں۔ ۱۔ G.T.Vigne اپنے سفر نامے میں صفحہ 238 جلد اول میں تحریر کرتے ہیں کہ یہ قلعہ باغسر دھیان سنگھ نے تعمیر کروایا تھا۔ جو مہاراجہ رنجیت سنگھ کا وزیر تھا اور ڈوگرہ حکمران گلاب سنگھ کا بھائی تھا۔ (یہ سفر نامہ لند ن سے 1842ء میں شائع ہوا اس کا نام Travel in Kashmir,
Ladakh & Skardu ہے)
۲۔ میجر آرتھر نیو (Maj Arthur Neve) ایک سرجن تھے انہوں نے اپنی کتاب Legacy of Kashmir, Ladakh &
Sakardu کے صفحہ 17 پر کشمیر کی اس شاہراہ کا ذکر کیا ہے۔ جو گجرات سے براستہ بھمبر، سعد آباد کشمیر جاتی تھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ “سعدآباد سے چند میل کے فاصلے پر ایک ریسٹ ہاؤ ہے اور اس کے ساتھ مغل سرائے۔ جس میں کوئی خانساماں نہیں ہے۔ اسی سے چند میل اوپر وادی میں ایک ڈوگرہ قلعہ بھی دیکھا جا سکتا تھا جو مضبوطی سے پہاڑ پر کھڑا ہے”
۳۔ مشہور فرانسیسی مورخ برنئیر وہ پہلا یورپی مورخ تھا جو 1665ء میں کشمیر میں داخل ہوا۔ اس نے مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے ساتھ کشمیر میں سفر کیا۔ اور گجرات سے بھمبر مغل روڈ پر سفر کیا۔ برنئیر نے مغل شاہراہ پر سفر کے دوران بھمبر سعد آباد، نوشہرہ، سری نگر تک تمام عمارتیں، تاریخی مقامات، چشمے اور قابل ذکر چیز کا ذکر کیا لیکن وادی سماہنی میں باغسر کے مقام پر کسی قلعے کا نام نہیں لیا۔ اگر یہ قلعہ اسوقت موجود ہوتا تو برنئیر ضرور اس کا تذکرہ کرتا۔
۴۔ مور کرافٹ نے بھی اپنے سفر نامے میں (1819, 1825) قلعہ باغسر کا کہیں ذکر نہیں کیا۔
۵۔ قلعہ باغسر کا طرز تعمیر قطعا وہ نہیں جو مغل انداز تعمیر ہے۔ قلعے میں بنے تقش و نگار واضح طور پر ہندو طرز تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں۔ خصوصا قلعہ کی شمالی فصیل میں بنے تقش و نگار ہندو طرز تعمیر کی گواہی دے رہے ہیں۔
ان حقائق کی روشنی میں ہم کہ سکتے ہیں کہ قلعہ باغسر مغلوں نے نہیں بلکہ ڈوگروں نے بنایا تھا۔ لیکن کب؟ یہ واضح نہیں۔
دوسری غلط فہمی جہانگیر کی انتڑیوں کے متعلق
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جہانگیر کو کشمیر سے والہانہ عشق تھا کیونکہ جب بستر مرگ پر اس کی خواہش پوچھی گئی تو اس نے گہر ی سانس لی اوپر دیکھا اور کہا ” کشمیر اور کچھ نہیں ” جہانگیر کی وفات کشمیر سے واپسی کے سفر میں ہوئی۔ کہاں ہوئی۔ مورخین راجوری کے قرب و جوار کا ذکر کرتے ہیں۔ لاش کو محفوظ رکھنے کیلیے انتڑیاں وغیرہ نکال کر کہیں دفن کر دی گئیں۔ بیگم ثریا خورشید (کے ایچ خورشید کی زوجہ) نے اپنے سفر نامے بانہال کے اس پر صفحہ 89 میں لکھا ہے کہ جہانگیر کی وفات راجوری کے مقام پر ہوئی اور اس کی انتڑیاں وہاں دفن کی گئیں اور مزار بنا دیا گیا۔ اب داستان کیلیے جہاں باغسر کو مغل تعمیر قرار دیا جا رہا ہے وہاں جہانگیر کی موت کو بھی اسی قلعہ میں بیان کیا گیا ہے۔ قلعہ سے باہر نامعلوم قبر کے بارے میں بڑے یقین کے ساتھ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہاں جہانگیر کی آلائشیں مدفون ہیں۔
(ماخوذ از شاداب 2002)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں